جاوید ڈار نے رفیع آباد میں 12.63 کروڑ روپے کے منصوبوں کا افتتاح کیا اور بنیاد رکھی

جاوید ڈار نے رفیع آباد میں 12.63 کروڑ روپے کے منصوبوں کا افتتاح کیا اور بنیاد رکھی

تعلیم ، ویٹر نری خدمات اور سڑکوں کی کنیکٹیویٹی میں بڑا فروغ

بارہمولہ//وزیر برائے زراعت ، دیہی ترقی و پنچائتی راج ، کواپریٹو اور الیکشن مسٹر جاوید احمد ڈار نے آج رفیع آباد میں مجموعی طور پر 12.63 کروڑ روپے کی لاگت والے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا اور بنیاد رکھی ۔ ان منصوبوں کا مقصد تعلیمی انفراسٹرکچر ، ویٹر نری خدمات ، سڑکوں کی کنیکٹیویٹی اور دیگر ضروری عوامی سہولیات کو مضبوط بنانا ہے ۔ وزیر نے وتر گام میں انجینئرنگ کمپلیکس کی تعمیر کیلئے سنگِ بنیاد رکھا جس کی تخمینہ لاگت 4.60 کروڑ روپے ہے ۔ انہوں نے رفیع آباد کے چجھاما میں ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی لیبارٹری کی تعمیر کا بھی سنگِ بنیاد رکھا جس کی لاگت 1.28 کروڑ روپے ہے ۔ تعلیم کے شعبے میں ہائیر سکینڈری اسکول شٹلو میں 10 کمرے والی دو منزلہ عمارت کی تعمیر کیلئے سنگِ بنیاد رکھا گیا جس کی لاگت 2.74 کروڑ روپے ہے اس کے علاوہ بوائیز ہائیر سکینڈری اسکول شٹلو میں فزکس ، کیمسٹری ، بائیولوجی اور کمپیوٹر کے کمروں کی تعمیر کا کام 72 لاکھ روپے کی تخمینہ لاگت سے شروع کیا گیا ۔ وزارتی شعبے میں جاوید ڈار نے شلتو ، روہامہ میں اپ گریڈ شدہ موجودہ ویٹر نری عمارت ( بشمول باڑ بندی ) کا افتتاح کیا جس کی لاگت 61.29 لاکھ روپے ہے ۔ یہ سہولت مقامی آبادی کو بہتر ویٹر نری خدمات اور بہتر بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کیلئے ہے ۔ وزیر موصوف نے برنڈب کھہموہ روڈ ( کلو میٹر پہلا اور دوسرا) کا بھی افتتاح کیا جس کی تعمیر پر 1.70 کروڑ روپے کی لاگت آئی ۔ مزید براں ووہلترا ۔ شٹلو ۔ ارکھرواری روڈ کی مستقل بحالی کا سنگِ بنیاد رکھا گیا جس کی تخمینہ لاگت ایک کروڑ روپے ہے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسٹر جاوید ڈار نے کاموں کی بروقت تکمیل پر زور دیا اور کہا کہ یہ منصوبے رافع آباد میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور عوامی خدمات بہتر کرنے کیلئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی ضروریات سے براہ راست جُڑے شعبوں ، بالخصوص تعلیم ، ویٹر نری خدمات اور سڑکوں کی رابطہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔ وزیر نے متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی رابطہ کاری اور کاموں کی باقاعدہ نگرانی کی بھی تاکید کی تا کہ عوامی فنڈز کے موثر استعمال اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے ۔