بھارت نے پاکستان کا الزام مسترد کر دیا
سرینگر//یو این ایس / بھارت نے بحیرہ عرب میں بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس کولکاتا اور پاکستانی بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین کے درمیان پیش آنے والے تصادم سے متعلق پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثہ پاکستانی بحری جہاز کی جانب سے خطرناک انداز میں قریب آنے اور آگے نکلنے کی کوشش کے نتیجے میں پیش آیا۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو کہا کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے اپنے احتجاج کے جواب میں دیے گئے موقف کو دیکھا ہے، تاہم نئی دہلی نے اس میں عائد الزامات اور دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق آئی این ایس کولکاتا مغربی بحیرہ عرب میں معمول کی تعیناتی پر تھا، جب پاکستانی بحری جہاز پی این ایس حنین نے مبینہ طور پر غیر پیشہ ورانہ انداز میں قریب آتے ہوئے خطرناک طریقے سے آگے نکلنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کے درمیان ٹکر ہوئی۔جیسوال نے کہا کہ پاکستان کے بحری جہاز کی جانب سے کیا گیا یہ اقدام اپریل 1991 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور فوجی سرگرمیوں کے بارے میں پیشگی اطلاع سے متعلق معاہدے کی دفعہ 10 کی خلاف ورزی تھا۔ بھارتی مو ¿قف کے مطابق مذکورہ شق کے تحت سمندر میں موجود دونوں ممالک کے بحری یونٹ ایک دوسرے سے کم از کم تین سمندری میل کے فاصلے پر رہنے کے پابند ہیں۔ بھارت نے مزید کہا کہ پاکستانی بحری جہاز نے سمندر میں تصادم سے بچاو ¿ کے لیے نافذ بین الاقوامی ضوابط کی بھی خلاف ورزی کی۔دوسری جانب پاکستان نے بھارت کے مو ¿قف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی بحری جہاز نے پاکستانی بحری جہاز کے قریب اشتعال انگیز اور خطرناک انداز میں نقل و حرکت کی۔ پاکستان کے مطابق یہ واقعہ اس کے خصوصی اقتصادی زون میں جاری بحری مشقوں کے دوران پیش آیا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اس کا جنگی جہاز معمول کی نگرانی کی کارروائی پر تھا اور واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا۔ دونوں ممالک نے اس واقعے پر ایک دوسرے کے سفارتی نمائندوں کو طلب کرکے احتجاج بھی درج کرایا ہے۔ بھارت نے بدھ کے روز نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج کیا تھا۔بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق واقعے میں آئی این ایس کولکاتا کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا اور جنگی جہاز بدستور سمندر میں تعینات ہے۔ واقعے کی ذمہ داری اور دیگر اہم تفصیلات پر دونوں ممالک کا مو ¿قف بدستور مختلف ہے۔










