لیفٹیننٹ گورنر نے جموںوکشمیر پولیس سروس کے نئے تعینات اَفسران کو تقرری نامے سونپے

لیفٹیننٹ گورنر نے جموںوکشمیر پولیس سروس کے نئے تعینات اَفسران کو تقرری نامے سونپے

کہا، نئے تعینات پولیس اَفسران کو دئیے گئے تقرری نامے جموں وکشمیر کے عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جموں و کشمیر پولیس (گزیٹیڈ) سروس کے 29 نئے منتخب اَفسران کو تقرری نامے سونپے،جو یونین ٹیریٹری کے میرٹ پر مبنی حکمرانی اور مضبوط سیکورٹی کی جانب سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میں کہا کہ تقرری نامے محض دستاویزات نہیں ہیں بلکہ ان میں جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے افسران پر کئے گئے غیر معمولی اعتماد کی ذمہ داری بھی شامل ہے۔ اُنہوں نے تقرری نامے کو عوام کی خدمت کی دعوت، ان کی عزت، سلامتی اور مستقبل کے تحفظ کے عہد اور افسران کو سونپی گئی ذمہ داری کی علامت قرار دیا۔اُنہوںنئے تعینات افسران کو مُبارک بادیتے ہوئے جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی ) کے ذریعے منعقدہ سخت اور شفاف اِنتخابی عمل کو کامیابی سے مکمل کرنے پر ان کے عزم و استقلال کی سراہنا کی۔ اُنہوں نے کمیشن کی جانب سے شفافیت، غیر جانبداری اور ساکھ کو برقرار رکھنے اور 2019 سے میرٹ کی بنیاد پر ملازمتوں کی فراہمی کی ایک نئی روایت قائم کرنے پرکمیشن کی ستائش کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے یاد دلایا کہ پہلی بار سبزی فروشوں اور مزدوروں جیسے عام کنبوں کے بچے بھی محض اَپنی صلاحیت اور محنت کی بنیاد پر سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔اُنہوں نے نئے تعینات افسران کو یاد دلایا کہ ان کا سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان کا مشن ذاتی کامیابی نہیں بلکہ عوام کی خدمت، شہریوں کا تحفظ اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنا ہے۔ اُنہوں نے دہشت گردی، انتہا پسندی، اور کریپٹو کرنسی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت کے نئے طریقوں سمیت بدلتے ہوئے چیلنجوں کو اُجاگر کیا۔۔ اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر اور ملک دونوں کے محافظ بن کر اَپنے فرائض انجام دیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’تربیت مکمل کرنے کے بعد جب آپ خاکی وردی پہنیں گے تو آپ سرحد پار موجود دہشت گرد قوتوں اور تنظیموں اور جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے درمیان ایک حفاظتی ڈھال بن کر کھڑے ہوں گے۔ آپ ہر شہری کے خوابوں کے محافظ ہوں گے اور یہ کوئی معمولی ذِمہ داری نہیں ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ہر شہری کا تحفظ ان عظیم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے جو کوئی جمہوریت اپنے افسران کو سونپ سکتی ہے۔ مجھے آپ سے یہ توقع ہے کہ آپ ہر شہری کے لئے خوف سے پاک ماحول کو یقینی بنائیں گے۔‘‘اُنہوں نے جموں و کشمیر پولیس بنیادی اصولوں او راَقدار کو اُجاگر کرتے ہوئے ان سینئر اَفسران کے جذبہ لگن، قربانی اور ہمت کو سراہا جنہوں نے کئی دہائیوں سے امن و ہم آہنگی کے تحفظ میں کردار اَدا کیا ہے۔اُنہوں نے نئے تعینات اَفسران پر زور دیا کہ وہ اِختیارکے ساتھ ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کریں، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھیں اور کمزور ترین طبقوںکے حقوق کا تحفظ کریں۔اُنہوں نے بنیادی اصول ’’بے گناہوں کو ہراساں نہ کریں اور مجرموں کو نہ بخشیں ‘‘ کا اعادہ کرتے ہوئے اَفسران سے کہا کہ وہ خاکی وردی فخر کے ساتھ پہنیںلیکن اَپنے ضمیر کو اَپنے دِل کے قریب رکھیں۔لیفٹیننٹ گورنرنے مزید کہا،’’آپ کے پاس اِختیار ہوگا اور آپ کو اس اختیار کو ہمدردی کی اَقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا تاکہ انسانی حساسیت آپ کے تمام اقدامات کا لازمی حصہ رہے۔ آپ کو یہ عزم کرنا ہوگا کہ حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوجائیں، آپ دیانتداری اور فرض کا راستہ اِختیار کریں گے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ وردی کا وقار اس کو پہننے والے اَفسران کی دیانتداری، ہمت اور طرزِ عمل پر منحصر ہوتا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ایمانداری، ہمت اور عاجزی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ آج تقرری نامے کے ساتھ میں نے آپ کو عوام کی اُمیدیں، خواب اور اعتماد بھی سونپا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ آپ عزم کے ساتھ اس ذِمہ داری کو نبھائیں گے اور اِنصاف کے مقصدکے لئے اَپنے اِختیار کا اِستعمال کریں گے۔‘‘تقریب میں چیف سیکرٹری اَتل ڈولو،ڈِی جی پی نلین پربھات،پرنسپل سیکرٹری محکمہ داخلہ چندرکر بھارتی،کمشنر سیکرٹری محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن ایم راجواور پولیس و سول اِنتظامیہ کے دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔