قرض کی فراہمی بڑھانے اور یوایل آئی اَپنانے پر زور دِیا
سری نگر// ڈِپٹی گورنر ریزرو بینک آف اِنڈیا (آر بی آئی) روہت جین نے جموںوکشمیر یونین ٹیریٹری میں کام کرنے والے بڑے بینکوں کے زونل سربراہان کے ساتھ ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ڈپٹی گورنر نے اَپنے اِفتتاحی خطاب میں جموں و کشمیر میں اِقتصادی سرگرمیوںکو فروغ دینے اور مالی شمولیت کو مستحکم کرنے میں بینکوں کے اہم کردار کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے بینکوں کی جانب سے مناسب بینکنگ اِنفراسٹرکچر برقرار رکھنے، قرضوں کی فراہمی بہتر بنانے اور ترجیحی شعبوں بالخصوص بینکنگ سہولیات سے پسماندہ طبقوں تک بینکنگ خدمات کی زیادہ رسائی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈپٹی گورنر نے یونین ٹیریٹری کی بدلتی ہوئی قرضوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بینکوں کی مربوط کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے کسٹمر سروس اور شکایات کے اَزالے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بینکوں کو صارفین کی ضروریات کے تئیں حساس اور جوابدہ رہنا چاہیے۔ اُنہوں نے ڈیجیٹل فراڈکے بڑھتے ہوئے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے بینکنگ خدمات کی مزید ڈیجیٹلائزیشن کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اُنہوںنے بینکوں کو یونیفائیڈ لینڈنگ انٹرفیس (یو ایل آئی) کے ذریعے قرضوں کی پروسسنگ بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیااور اس کی صلاحیت کو اُجاگر کیا کہ یہ قرض کی فراہمی کے نظام میں اسی طرح کی تبدیلی لا سکتا ہے جیسی تبدیلی ڈیجیٹل ادائیگیوں میں یو پی آئی نے پیدا کی تھی۔ریجنل ڈائریکٹر آر بی آئی جموں نے جموں و کشمیر کے مالیاتی منظرنامے کا ایک جامع جائزہ پیش کیا اور زراعت، مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم اِیز)، سیاحت، دستکاری اور خدمات کے شعبوں میں خطے کی اِقتصادی صلاحیت کو اُجاگر کیا۔بعد میں خطے میں موجود بڑے بینکوں کے زونل سربراہان نے جموں و کشمیر کے مالیاتی منظرنامے پر تفصیلی پرزنٹیشن دی جس میں بینکنگ نیٹ ورک، کریڈٹ۔ ڈیپازٹ تناسب ، قرضوں کی فراہمی اور ترجیحی شعبے کو قرض دینے کے علاوہ یونیفائیڈ لینڈنگ انٹرفیس یو ایل آئی) پر بینکوں کو شامل کرنے میں ہونے والی پیش رفت، دوبارہ کے وائی سی کی کوریج، لاوارث یا غیر دعویٰ شدہ رقوم کی تصفیہ اور جموں و کشمیر کے لئے متعلقہ بینکوں کی جانب سے کئے گئے خصوصی اقدامات شامل تھے۔










