عالمی تعلیمی فنڈ’ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ‘ (ای سی ڈبلیو) کے مطابق، بدامنی اور دیگر عوامل کے باعث 87 ممالک میں مجموعی طور پر 25 کروڑ 80 لاکھ بچے شدید تعلیمی خلل کا شکار ہیں۔ تعلیم کو حملوں سے تحفظ دینے کے عالمی دن پر’ای سی ڈبلیو‘ نے کئی خطوں کی صورتحال کو بڑھتے تنازعات اور عالمی اصولوں کے بتدریج کمزور ہونے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
بحران زدہ علاقوں میں تعلیم کے لیے کام کرنے والے اس ادارے کی ڈائریکٹر میسا جیلبوٹ نے کہا ہے کہ جب کسی بچے کو برسوں تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے تو اس کے نتائج گہرے ہوتے ہیں۔ بچہ خواندگی کی بنیادی صلاحیتیں بھول جاتا ہے، معمولات زندگی متاثر ہوتے ہیں اور اس کا مستقبل اساتذہ کے بجائے جنگی مقاصد کے لیے بھرتی کرنے والوں یا انسانی سمگلروں کے ہاتھ میں جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تعلیم پر 9,259 حملے
‘ای سی ڈبلیو‘ کی شراکت سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق، 2024 اور 2025 میں تعلیم پر حملے اور سکولوں کو مسلح تنازعات میں استعمال کیے جانے کے واقعات ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئے۔ طلبہ اور تعلیمی عملے کے ہلاک، زخمی، اغوا یا کسی اور طرح متاثر ہونے کے واقعات بھی اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں سامنے نہیں آئے۔
28 ممالک میں تعلیم کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ سکولوں اور یونیورسٹیوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ مجموعی طور پر تعلیم پر کم از کم 9,259 حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 3,600 سے زیادہ حملے سکولوں پر ہوئے۔ یہ تعداد 2022 اور 2023 کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ مسلح تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں 10,600 سے زیادہ طلبہ اور اساتذہ ہلاک، زخمی یا اغوا ہوئے جبکہ سکولوں کے عسکری استعمال کے واقعات بھی دو گنا بڑھ گئے۔
جنگی قوانین کی خلاف ورزی
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کریں اور تعلیمی اداروں کو حملوں سے محفوظ رکھیں۔
ادارے کے مطابق، دنیا بھر میں سکول جانے سے محروم اور بحرانوں سے متاثرہ بچوں میں تقریباً 80 فیصد یا 7 کروڑ 40 لاکھ کا تعلق صرف 20 ممالک سے ہے۔
ان ممالک میں بھی سب سے زیادہ کمزور بچے تعلیم کے حصول میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ 74 فیصد مہاجر بچے، 52 فیصد اندرون ملک بے گھر اور 45 فیصد معذور بچے سکول نہیں جا سکتے۔
حکومتی افواج کا بڑھتا تشدد
اقوام متحدہ کے مطابق، 2025 میں 24,174 بچے مسلح تنازعات سے متاثر ہوئے جبکہ بچوں کے حقوق کی خلاف سنگین پامالی کے 38,558 واقعات کی تصدیق ہوئی۔
بچوں کا قتل اور انہیں زخمی کیا جانا ان کے حقوق کی سب سے عام خلاف ورزیوں میں شامل رہا جس سے 14,224 بچے متاثر ہوئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق سالانہ رپورٹ کے مطابق، بچوں کو مسلح تنازعات میں بھرتی اور استعمال بھی کیا گیا، انہیں اغوا کیا گیا اور انسانی امداد سے بھی محروم رکھا گیا۔
ایسے سب سے زیادہ واقعات اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں ریکارڈ کیے گئے جس کے بعد جمہوریہ کانگو، نائجیریا، میانمار اور صومالیہ کا نمبر آتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، پہلی مرتبہ بچوں کے حقوق کی بیشتر سنگین پامالیاں حکومتی فورسز کے ہاتھوں ہوئیں۔
‘ای سی ڈبلیو’ کی مہم بعنوان ‘امید یہاں سے شروع ہوتی ہے’ کے تحت دنیا کے مشکل ترین حالات سے دوچار ایک کروڑ بچوں کو محفوظ اور معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے 60 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔










