جاوید رانا نے جھیل ڈل میں آلودگی سے متعلق خدشات کا جائزہ لیا اور مربوط تحفظاتی اقدامات کی ہدایت دِی

جاوید رانا نے جھیل ڈل میں آلودگی سے متعلق خدشات کا جائزہ لیا اور مربوط تحفظاتی اقدامات کی ہدایت دِی

کہا، جھیل ڈل کا تحفظ تمام شراکت داروں کی مشترکہ ذِمہ داری ہے

سری نگر//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات وماحولیات اور قبائلی امور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے جھیل ڈل میں آلودگی کے موجودہ خدشات کا جائزہ لینے اور اس کے تحفظ اور بحالی کے لئے کئے جانے والے اَقدامات کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں وائس چیئرمین جموں و کشمیر لیکس کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اَتھارٹی (ایل سی ایم اے)، چیف اِنجینئر پی ایچ اِی/آئی اینڈ ایف سی کشمیر، چیف اِنجینئر یو اِی اِی ڈِی کشمیر، ریجنل ڈائریکٹر جموں و کشمیر پولوشن کنٹرول کمیٹی کشمیر، اور سپراِنٹنڈنگ اِنجینئر، ہائیڈرولک سرکل سری نگر نے شرکت کی۔اُنہوں نے کہا کہ جھیل ڈل کا تحفظ تمام متعلقہ متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی مشترکہ ذِمہ داری ہے۔اُنہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ آلودگی پر قابو پانے اور جھیل کی ماحولیاتی صحت کو محفوظ رکھنے کے لئے مربوط اور دیرپا طریقہ اِختیار کریں۔ اُنہوں نے آلودگی کے مختلف ذرائع سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔جاوید رانا نے کہا،’’ جھیل ڈل کشمیر کا ایک انمول ماحولیاتی، ثقافتی اور سیاحتی اثاثہ ہے۔ اس کا تحفظ مشترکہ ذِمہ داری ہے اور تمام متعلقہ اِداروں کو آلودگی پر قابو پانے اور جھیل کے طویل مدتی تحفظ و بحالی کو یقینی بنانے کے لئے مل کر کام کرنا چاہیے۔‘‘جھیل ڈل کشمیر کے سب سے مشہور آبی ذخائر میں سے ایک ہے اور وادیٔ کشمیر آنے والے سیاحوں کے لئے ایک اہم کشش ہے۔ اس کی ماحولیاتی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے کیوںکہ یہ آبی حیاتیاتی تنوع اور مختلف اقسام کی مچھلیوں کے لئے اہم مسکن فراہم کرتی ہے۔ وزیر موصوف نے جھیل کے قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیوں سے اس کے ماحولیاتی توازن پر منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔دورانِ میٹنگ افسران نے وزیرجاوید رانا کو بتایا کہ جھیل ڈل میں داخل ہونے سے قبل سیوریج کے پانی کو موجودہ اِنتظامات کے تحت مناسب طریقے سے صاف کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ امرت کے تحت 30 ایم ایل ڈِی گنجائش کا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اس وقت زیرِ تعمیر ہے جس کی تکمیل آئندہ دو برسوں کے اندر متوقع ہے۔ اِس سہولیت سے گندے پانی کی صفائی کو مزید تقویت ملے گی اور جھیل میں آلودگی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔میٹنگ میں حکام کی جانب سے کئے جانے والے مختلف قلیل المدتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان اقدامات میں تجاوزات کا باقاعدہ خاتمہ، کوڑاکرکٹ کو روزانہ اِکٹھا کرنااور ہٹانا، ڈیویڈنگ آپریشن اور آبی جڑی بوٹیوں کو بائیو فرٹیلائزر میں تبدیل کرنا شامل ہیں۔اَفسران نے وزیرکو یہ بھی بتایا کہ جھیل ڈل میں آلودگی اور انحطاط میں معاون سرگرمیوں کو روکنے کے لئے مناسب عمل آوری کے اقدامات باقاعدگی سے کئے جا رہے ہیں۔جاوید رانا نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے اور جھیل کے انتظام و انصرام میں شامل تمام اِداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے پانی کے معیار کی باقاعدہ نگرانی کرنے اور آلودگی کے اہم مقامات کی نشاندہی کرنے پر زور دِیا تاکہ فوری طور پر اِصلاحی اقدامات کئے جا سکیں۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ جھیل ڈل کے تحفظ کے لئے کثیرالجہتی حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے جس میں گندے پانی کی صفائی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، تجاوزات کو ہٹانا، ڈیویڈنگ ، آلودگی کی نگرانی اور قوانین و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد شامل ہیں۔جاوید رانا نے تحفظ کی کوششوں کو مزید مؤثر اور دیرپا بنانے کے لئے بالخصوص کمیونٹیوںاور جھیل کے آس پاس رہنے والے اور اس پر انحصار کرنے والے شراکت داروں کے درمیان دیرپا عوامی بیداری اور شرکت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ باہمی رابطہ برقرار رکھیں اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ قلیل المدتی اَقدامات اور طویل مدتی منصوبے جھیل ڈل کی ماحولیاتی صحت میں نمایاں بہتری کا باعث بنیں۔