نیپال کے سانحہ کو انتباہ قرار دیا؛ ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے پر زور
سرینگر / / میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیپال اور پورے ہمالیائی خطے میں ہونے والی تباہی ہم سب کے لیے گہری تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ یہ واقعات الگ تھلگ یا اتفاقی نہیں ہیں، بلکہ یہ اس بات کی تنبیہ ہیں کہ گلیشیئرز کے پگھلنے اور گرنے کے باعث ہمارے پہاڑی ماحولیاتی نظام کتنے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔کشمیر پریس سروس تفصیلات کے مطابق میرواعظ نے کہاکہ ہم اس مشکل وقت میں نیپال کے عوام کے ساتھ دلی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے دعا گو ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گنوائیں، نیز ان بہت سے لاپتہ افراد کی حفاظت اور جلد بازیابی، اور متاثرین کے لیے ہمت اور ریلیف کی دعا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بھی اسی نازک ہمالیائی پٹی کا حصہ ہے۔ ہم پہلے ہی شدید بارشوں، بادل پھٹنے (cloudbursts)، اچانک سیلاب اور تودے گرنے (landslides) جیسے واقعات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ بلاشبہ موسمیاتی تبدیلی اس کی ایک بڑی وجہ ہے، لیکن ہمیں یہ بھی جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ترقی کا ہمارا اپنا طریقہ کار صورتحال کو مزید خطرناک تو نہیں بنا رہاہے ۔انہوں نے کہا کہ پہاڑوں، جھیلوں اور دریاؤں کے قدرتی حسن سے مالا مال کشمیر سیاحوں اور مسافروں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے اور یہاں کی ایک بڑی آبادی کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے۔ “لیکن جس طرح تجارتی مقاصد اور ترقی کے نام پر اس ماحولیاتی نظام کا بے دریغ استحصال کیا جا رہا ہے، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے پہاڑوں کو کاٹا اور دھماکوں سے اڑایا جا رہا ہے، درختوں کی کٹائی ہو رہی ہے، ماحولیاتی اعتبار سے حساس علاقوں میں ہوٹل اور عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں اور پانی کے قدرتی بہاؤ کے راستوں میں خلل ڈالا جا رہا ہے۔ “اگر مناسب سائنسی اور ماحولیاتی حفاظتی اقدامات کے بغیر یہ سلسلہ جاری رہا، تو ہم مستقبل میں کہیں زیادہ بڑے سانحات کے لیے حالات پیدا کر رہے ہوں گے۔میرواعظ نے کہا کہ آبی علاقوں (ویٹ لینڈز)، جھیلوں اور سیلابی پانی کے راستوں پر مسلسل تجاوزات بھی اتنی ہی تشویشناک ہیں۔ “میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان علاقوں پر قبضہ نہ کریں اور نہ ہی وہاں تعمیرات کریں۔ آبی علاقے غیر استعمال شدہ زمین نہیں ہوتے؛ یہ قدرتی رکاوٹیں (بفرز) ہیں جو اضافی پانی کو جذب کرتی ہیں اور انسانی بستیوں کا تحفظ کرتی ہیں۔ڈل جھیل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ہمیں صرف اپنی ڈل جھیل کی حالت پر ہی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ کس طرح طویل عرصے تک جاری رہنے والی تجاوزات، تعمیرات اور ماحولیاتی غفلت ایک قیمتی قدرتی نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہ جھیل دن بہ دن سکڑتی جا رہی ہے جبکہ ہم دوسری طرف منہ پھیرے ہوئے ہیں، گویا اس سے ہمارا کوئی سروکار ہی نہ ہو۔انہوں نے قرآنِ پاک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’ اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔‘‘ (7:56)۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنگین اجتماعی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ ’’حکام، منصوبہ سازوں، کاروباری اداروں اور شہریوں، سب کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمالیہ کے حساس خطے میں بنیادی ڈھانچے اور سیاحت کے لیے کی جانے والی ترقی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ماحولیاتی تحفظ اور ترقی کے نام پر انسانی مداخلت کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔‘انہوں نے کہا، ’’نیپال میں پیش آنے والے سانحہ کو ہمارے اپنے لیے ایک قریبی انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ہم بھی ہمالیہ کے خطے میں رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنے پہاڑوں، جنگلات، آبی علاقوں اور آبی گزرگاہوں کے قدرتی توازن کو بگاڑتے رہے، تو اس کے نتائج ایک دن ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔‘‘انہوںنے کہا، ’’آج اپنے ماحول کا تحفظ محض ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ یہ ہماری جانوں، گھروں اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کا معاملہ ہے۔‘‘










