چیف سیکرٹری نے ہدف کے حصول کیلئے پروجیکٹ وار سنگ میل کا جائزہ لیا
سری نگر//جموں و کشمیر میں بجلی کے منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی متوقع ہے، حکومت نے ایک جامع اور مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے جس کے تحت دسمبر 2035 تک فعال پن بجلی کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر 10,969.65 میگاواٹ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ موجودہ نصب شدہ صلاحیت 3,540.15 میگاواٹ سے تین گنا زیادہ ہے۔توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، بیرونی ذرائع سے بجلی پر انحصار کم کرنے اور طویل المدتی اِقتصادی ترقی کی بنیاد رکھنے کے مقصد سے تیار کئے گئے اس پُر عزم روڈمیپ کا آج چیف سیکرٹری اَتل ڈولو کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پاور کے علاوہ کمشنر سیکرٹری قانون، سیکرٹری ریونیو، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے پی سی ایل، متعلقہ ڈِپٹی کمشنروں، بجلی منصوبوں کے سربراہان، این ایچ پی سی کے نمائندگان اور محکمہ پاور ڈیولپمنٹ کے سینئر اَفسران نے شرکت کی۔میٹنگ میں زیرتکمیل ہائیڈ رو پاور پروجیکٹوں کی طبعی و مالی پیش رفت، ان کی تعمیر اور کمیشننگ کے شیڈول کے ساتھ ساتھ آنے والی دہلائی میں پیداواری صلاحیت میں بروقت اضافہ یقینی بنانے کے لئے درکار سنگِ میلوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔چیف سیکرٹری نے منصوبوں کی تکمیل کی رفتار برقرار رکھنے اور جموں و کشمیر کی وسیع ہائیڈرو پاورصلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے مستقل بین ڈیپارٹمنٹل کوآرڈی نیشن ، منصوبوں کی سخت نگرانی اور رُکاوٹوں کو بروقت دُور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اِس موقعہ پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اشونی کمار نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں پن بجلی کی شناخت شدہ صلاحیت 14,635 میگاواٹ ہے جس میں سے اَب تک تقریباً 24.21 فیصد صلاحیت سینٹرل سیکٹر ،یو ٹی سیکٹر اوراِنڈی پنڈنٹ پاور پروڈیوسر(آئی پی پی ) پروجیکٹوںکے ذریعے حاصل کی جاچکی ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ شناخت شدہ صلاحیت میں سب سے بڑا حصہ چناب طاس کا ہے جہاں 11,283 میگاواٹ (77.1 فیصد) صلاحیت موجود ہے۔ اس کے بعد جہلم طاس میں 3,084 میگاواٹ (21.1 فیصد) اور راوی طاس میں 500 میگاواٹ (3.4 فیصد) صلاحیت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ نے اَب مرحلہ وار صلاحیت میں اضافے کی حکمت عملی وضع کی ہے تاکہ اس وسیع صلاحیت کو منظم انداز میں بروئے کار لایا جا سکے اور جموں و کشمیر کو توانائی کے حوالے سے زیادہ خود کفیل خطہ بنایا جا سکے۔
منیجنگ ڈائریکٹر جموں و کشمیر پاور کارپوریشن لمیٹڈ (جے کے پی سی ایل)راہل یادو نے تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ روڈمیپ کے تحت پہلی بڑی صلاحیت میں اضافہ 2026 کے آخیرتک متوقع ہے جبکہ 1,000 میگاواٹ پاکل ڈل ایچ ای پی، 624 میگاواٹ کیرو ایچ ای پی اور 12 میگاواٹ کرناہ ایچ ای پی کی کمیشننگ کے ذریعے 1,636 میگاواٹ کا اضافہ ہوگاجس سے مجموعی نصب شدہ صلاحیت 5,176.15 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ دسمبر 2027ء تک 37.5 میگاواٹ پرنائی ایچ اِی پی کی تکمیل کے ساتھ مجموعی صلاحیت 5,213.65 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔منیجنگ ڈائریکٹر نے مزید واضح کیا کہ 2028 میں صلاحیت میں ایک اور نمایاں اضافہ متوقع ہے جب 540 میگاواٹ کوارایچ اِی پی اور 850 میگاواٹ رَٹیلے ایچ اِی پی کے ذریعے مجموعی طور پر 1,390 میگاواٹ کا اضافہ ہوگا اور مجموعی نصب شدہ صلاحیت 6,630.65 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔راہل یادو نے بتایا کہ دسمبر 2029 تک سینٹرل سیکٹرکے پروجیکٹوں سے مزید 500 میگاواٹ بجلی حاصل ہونے کی توقع ہے جس میں 260 میگاواٹ ڈولہستی سٹیج۔دوم اور 240 میگاواٹ اُوڑی۔اول سٹیج دوم شامل ہیں۔ اس طرح مجموعی پیداواری صلاحیت 7,103.65 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ اس کے بعد 2031 ء سے 2035 ء تک کے مرحلے میں پائپ لائن میں شامل بڑے منصوبوں کی مرحلہ وار تکمیل عمل میں لائی جائے گی جن میں 820 میگاواٹ کرتھائی دوم، 390 میگاواٹ کرتھائی اول اور 1,856 میگاواٹ ساول کوٹ ایچ اِی پی شامل ہیں۔ اِن منصوبوں کی تکمیل کے بعد دسمبر 2035 ء تک جموں و کشمیر کی نصب شدہ پن بجلی صلاحیت 10,969.65 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
چیف سیکرٹری نے اس وقت زیر تعمیر منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے تعمیراتی سنگ میلوں کی قریبی نگرانی اور منصوبوں کی تکمیل میں حائل مسائل کو باہمی تال میل سے حل کرنے کی ہدایت دی تاکہ مقررہ مدت کے اندر ان منصوبوں کو مکمل کیا جا سکے۔اُنہوں نے زیر تعمیر ہر پن بجلی منصوبے کی متعلقہ پروجیکٹ ہیڈسے تفصیلی پیش رفت حاصل کی۔ بتایا گیا کہ 1,000 میگاواٹ پاکل ڈل ایچ اِی پی نے 85 فیصد طبعی اور 77.54 فیصد مالی پیش رفت حاصل کی ہے۔ کنکریٹ فیس راک فل ڈیم (سی ایف آر ڈِی) کی فِلنگ کا کام 89 فیصد مکمل ہو چکا ہے جبکہ یونٹ 3 اور 4 کی ٹیسٹنگ اور کمیشننگ مارچ 2027ء میں شیڈول ہے۔اس کے بعد یونٹ 1 اور 2 مئی/جون 2027 ء میں ہوں گے۔540 میگاواٹ کوار ایچ اِی پی نے 37.82 فیصد طبعی اور 42.11 فیصد مالی پیش رفت حاصل کی ہے۔ پاور ہاؤس کیورن کی کھدائی کا کام 99.6 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور منصوبے کو مارچ 2028ء تک کمیشن کرنے کا ہدف ہے۔دریں اثنا، 850 میگاواٹ رَٹیلے ایچ اِی پی نے 31.53 فیصد طبعی پیش رفت درج کی ہے جبکہ زیر زمین پاور ہاؤس کیورن کی کھدائی مکمل ہو چکی ہے۔ نظرثانی شدہ معاہداتی سنگِ میل کے مطابق منصوبے کی مکمل کمیشننگ نومبر 2028ء تک متوقع ہے۔یو ٹی سیکٹر کے منصوبوں میں 12 میگاواٹ کرناہ ایچ اِی پی کا 93 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور یہ منصوبہ ویٹ کمیشننگ کے لئے تیار ہے جبکہ 37.5 میگاواٹ پرنائی ایچ اِی پی نے 72.5 فیصد طبعی پیش رفت حاصل کی ہے اور اس کی ہیڈ ریس ٹنل (ایچ آر ٹی ) کی کھدائی کا 98 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔اس منصوبہ بند توسیع کے جموں و کشمیر کی ترقی پر دور رس اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ اس سے صنعت، بنیادی ڈھانچے، سیاحت، خدمات اور ابھرتی ہوئی معاشی سرگرمیوں کے لئے ایک مضبوط اور زیادہ قابل اعتماد توانائی کی بنیاد فراہم کرے گا۔










