editorial

تحریک اور ادارہ

تحریک اور ادارہ دو الگ الگ حقیقتیں نہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رُخ اور ایک ہی سچائی کے دو پہلو ہیں۔ یعنی دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ تحریک اگر متحرک ادارے سے الگ ہو تو زیادہ دن زندہ نہیں رہ سکتی، بلکہ انتشار و افراتفری کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لیے دم توڑ دیتی ہے۔ اسی طرح ادارہ بھی کسی تحریک کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ دونوں کا آپس میں روح اور جسم جیسا تعلق ہے۔ گویا بات صاف ہے کہ کوئی بھی مقصد یا ہدف جب تک خیال و دماغ یا زبانوں تک محدود رہتا ہے، اسے صرف تحریک کہا جا سکتا ہے، مگر جب اس مقصد کے حصول کے لیے طریقۂ کار، دستور اور آئین طے کیے جاتے ہیں تو تحریک صرف تحریک نہیں رہتی بلکہ ادارے کا روپ دھار لیتی ہے۔ تحریک خلا میں زندہ نہیں رہ سکتی اور کوئی بھی ادارہ بغیر کسی تحریک کے عالمِ وجود میں نہیں آ سکتا۔ ضروری ہے کہ مقصد کو پانے کے لیے ہر ادارے کو عملی میدان میں متحرک ہونا پڑے۔ تبھی تحریک کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں اور اس کے مقاصد کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔
درحقیقت تحریک ادارے کو سمت، مقصد اور توانائی فراہم کرتی ہے، جبکہ ادارہ تحریک کے نظریات کو عملی شکل دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اگر دونوں میں باہمی ربط، نظم و ضبط اور مقصد سے وابستگی موجود ہو تو ایک مضبوط اور مؤثر نظام وجود میں آتا ہے۔ یہی باہمی تعاون کسی بھی تحریک کو پائیداری اور کسی بھی ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔