سپریم کورٹ کا مرکز اور ریاستوں کو نوٹس ، ملزمان اور ان کے اہل خانہ کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی مکمل جانچ کا مطالبہ
سرینگر// سپریم کورٹ نے منگل کو امتحانات کے سوالیہ پرچے لیک کرنے کے معاملوں میں ملوث افراد اور ان کے اہل خانہ کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کی ہدایات جاری کرنے سے متعلق ایک مفاد عامہ عرضی (PIL) پر مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کیا ہے۔جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس الوک ارادھے پر مشتمل بنچ نے ایڈووکیٹ اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر عرضی پر مرکز اور ریاستوں کو نوٹس جاری کیا۔سماعت کے دوران اپادھیائے نے کہا کہ پیپر لیک معاملوں میں تحقیقات اور مقدمات کی مقررہ مدت میں تکمیل سے متعلق اپنی درخواست پر وہ زور نہیں دے رہے ہیں، کیونکہ پبلک ایگزامنیشن (پری ونشن آف ان فیئر مینز) ترمیمی بل 2026 منظور ہوچکا ہے، جس میں پیپر لیک کے خلاف قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 25 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ایڈووکیٹ اشونی کمار دوبے کے ذریعے دائر عرضی میں ملزمان اور ان کے اہل خانہ کی مکمل جائیداد کا جائزہ لینے اور اس کے مطابق انسداد رشوت ستانی قانون، منی لانڈرنگ ایکٹ، بے نامی جائیداد ایکٹ اور بلیک منی ایکٹ کی متعلقہ دفعات نافذ کرنے کی ہدایت دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیپر لیک کے جرم میں دی جانے والی سزائیں بیک وقت چلنے کے بجائے یکے بعد دیگرے یعنی مسلسلہونی چاہئیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہوسکے۔ متبادل طور پرلاء کمیشن کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے کہ وہ دیگر ممالک میں رائج طریقہ کار کا جائزہ لے کر تین ماہ کے اندر پیپر لیک کے معاملوں پر رپورٹ پیش کرے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ پیپر لیک کے ذمہ دار افراد کو روکنے، ان کے خلاف تحقیقات اور مقدمات چلانے میں بار بار ناکامی کے نتیجے میں طلبہ کے آئینی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔ درخواست میں آئین کی دفعات 14، 16، 19 اور 21 کے تحت طلبہ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔عرضی کے مطابق پبلک ایگزامنیشن (پری ونشن آف ان فیئر مینز) ایکٹ ، 2024 نافذ کیے جانے کے باوجود قانون میں بعض خامیاں موجود ہیں، جن میں تحقیقات اور مقدمات کی مقررہ مدت میں تکمیل کا واضح نظام شامل نہ ہونا بھی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے سے طلبہ اور ان کے خاندانوں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ طلبہ کو ذہنی اور جسمانی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تعلیمی اور روزگار کے مواقع متاثر ہوتے ہیں، قرضوں کی ادائیگی کا مالی بوجھ بڑھتا ہے اور بعض معاملات میں طلبہ کی خودکشی کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔










