سپریم کورٹ کا مرکز اور ریاستوں کو نوٹس ،ملزمان کو غیر انسانی انداز میں پیش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز پر بھی تشویش
سرینگر// سپریم کورٹ نے منگل کو ایک مفاد عامہ عرضی پر مرکز، تمام ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم میٹا اورایکس سے جواب طلب کیا ہے، جس میں پولیس تنظیموں کو ملزمان کی شناخت ظاہر کرنے یا انہیں غیر انسانی اور تضحیک آمیز انداز میں پیش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز آن لائن جاری کرنے سے روکنے کے لیے ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے عرضی گزار ہیمنترا پٹیل کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈووکیٹ گوپال سنکرنارائنن کے دلائل کا نوٹس لیتے ہوئے مرکز، ریاستوں اور متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کیا۔عرضی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ شرتنجے بھاردواج کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ اس میں ریاستوں کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے پولیس سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایسی پوسٹس فوری طور پر ہٹائیں جن میں ملزمان کے چہرے یا شناخت ظاہر ہوتی ہو یا انہیں غیر انسانی، توہین آمیز اور تضحیک آمیز حالت میں دکھایا گیا ہو۔عرضی میں پولیس تنظیموں کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے مناسب رہنما اصول وضع کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے، تاکہ ملزمان کی شناخت ظاہر کرنے والی یا ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کو نمایاں کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز کی اشاعت کو روکا جا سکے۔درخواست میں ایسی تصاویر اور ویڈیوز کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن میں ملزمان کو ہتھکڑیاں لگائے، رسیوں سے باندھے، لاٹھیوں سے مارے، گھٹنوں کے بل بٹھائے، گھسیٹے یا سیڑھیوں سے کھینچ کر نیچے لاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔مفاد عامہ عرضی میں میٹا پلیٹ فارمز اورایکس کارپس کو بھی ہدایات دینے کی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز، بشمول فیس بک اورانستا گرام، کے لیے ایسی مناسب پالیسیاں اور صارف رہنما اصول مرتب کریں جن کے تحت ملزمان کی شناخت ظاہر کرنے یا انہیں غیر انسانی، توہین آمیز اور تشدد پر مبنی انداز میں پیش کرنے والے مواد کی اشاعت روکی جا سکے۔عرضی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پہلے سے موجود ایسے مواد کی صارفین کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر اسے فوری طور پر ہٹانے کے لیے ایک باقاعدہ، شفاف اور منظم طریقہ کار قائم کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔مرکزی وزارت برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، میٹا پلیٹ فارمزاور ایکس کارپس کو بھی اس معاملے میں فریق بنایا گیا ہے۔










