’’عمر خالد، شرجیل امام کو رہا کرو‘‘

’’عمر خالد، شرجیل امام کو رہا کرو‘‘

نئی دہلی//ایجنسیز //مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد گوا کے پنجی کے آزاد میدان میں کچھ لوگ جشن منا رہے تھے۔ اسی دوران ایک نوجوان کے ہاتھ میں ایک پوسٹر تھا جس پر لکھا تھا’’عمر خالد، شرجیل امام اور بھیما کوریگاؤں کو رہا کرو۔پولیس کے مطابق اس نوجوان کا نام دانش ہے۔جب پولیس نے دانش کے ہاتھ میں یہ پوسٹر دیکھا تو اس سے شناختی کارڈ طلب کیا گیا۔ شناختی دستاویز نہ ہونے پر اسے پوچھ گچھ کیلئے پنجی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔اس واقعے کے بعد بی جے پی یوا مورچہ کے کارکنوں نے پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا دیا اور پوسٹر دکھانے والے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دانش نے کہا کہ وہ عمر خالد کی رہائی کے مطالبے کی حمایت کرتا ہے۔ احتجاجی مقام پر موجود ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق دانش کو حراست میں لیے جانے کے بعد آزاد میدان میں موجود مظاہرین اس کی حمایت میں پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب مارچ کرنے لگے اور اس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران پولیس نے سدین دلوی کو بھی حراست میں لے لیا۔سدین دلوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بھی عمر خالد کی حمایت کی اور میڈیا کے ساتھ بدتمیزی کی۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ عمر خالد 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں اس وقت جیل میں بند ہیں۔