کوئی قانون گنگا ندی پر چکن بریانی کھانے سے نہیں روکتا: جسٹس اْجول بھوئیان

کوئی قانون گنگا ندی پر چکن بریانی کھانے سے نہیں روکتا: جسٹس اْجول بھوئیان

نئی دہلی/ایجنسیز//سپریم کورٹ کے جج جسٹس اْجول بھوئیان نے سخت ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مختلف رائے رکھنے کیلئے عوامی مقامات کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرنے والے طلبا کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور انہیں ضمانت نہیں دی جا رہی ہے۔ جب انہیں ضمانت مل بھی جاتی ہے تو عدالتیں ایسی سخت شرائط عائد کرتی ہیں جن سے ان کی آزادی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنی رائے کا اظہار کرنے اور پْرامن احتجاج کرنے کا حق شہریوں کی بنیادی آزادی ہے۔جسٹس بھویان نیشنل لاء انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی بھوپال کی طرف سے منعقدہ پانچویں جسٹس جی پی سنگھ میموریل لیکچر میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ تبصرے کرتے ہوئے زور دیا کہ ہندوستان کی یونیورسٹیوں کو ایک ایسی جگہ ہونا چاہیے جہاں طلباء ان تمام مسائل پر تنقیدی سوچ اور تحقیق کا ارتکاب کر سکیں نہ کہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ جسٹس اْجول بھوئیان کا کہنا ہے کہ جو لوگ ماحول کو پہنچنے والے نقصان پر اپنے دکھ کا اظہار کرنے آتے ہیں انہیں ایسے بھگا دیا جاتا ہے جیسے وہ مجرم ہوں۔ کیمپس میں احتجاج کرنے والے طلبا کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور انہیں 30تا40 دنوں تک ضمانت نہیں ملتی۔گنگا ندی کے بیچ ایک کشتی پر افطار پارٹی کرنے والے نوجوانوں کے ایک گروپ کو ضمانت نہ دیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس بھوئیان نے سوال کیا کہ کیا ایسی چیز کیلئے ضمانت سے انکار کیا جا سکتا ہے جو کوئی جرم ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ چکن بریانی کھانا کوئی جرم نہیں ہے۔ گنگا ندی پر چکن کھانے پر پابندی لگانے والا کوئی قانون نہیں ہے۔ انہیں اسی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں 3 ماہ تک جیل میں رہنا پڑا۔جسٹس اْجول بھوئیاں کے مطابق عدالتیں اب ضمانت کیلئے ایسی شرائط عائد کر رہی ہیں جو دراصل کسی شخص کو اپنی اختلاف رائے کا اظہار کرنے سے روکتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بمبئی ہائی کورٹ نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسی) کی طرف سے دائر کردہ اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں فلسطین کی حمایت میں احتجاج کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی انہوں نے ریمارکس کئے کہ مجھے یہ بہت دلچسپ لگا کہ جب ممبئی کے شیواجی پارک میں کچھ لوگ غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے تو حکومت نے اجازت نہیں دی لہذا انہوں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کی معزز جج نے کہا کہکیا آپ کو ہندوستان میں کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ کو احتجاج کیلئے اتنی دور کیوں جانا پڑتا ہے؟ جسٹس بھویان نے بیان کیا کہ ہندوستان نے روایتی طور پر فلسطین کو تسلیم کیا ہے اور یہاں فلسطینی سفارت خانہ موجود ہے لیکن اس کے باوجود ایسے واقعات پیش آئے جہاں لوگوں کو احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی۔