فنڈس کے استعمال اور ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر عمر عبداللہ حکومت کو بخاری کی تنبیہ
سرینگر// اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے جمعہ کو نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی درجے (اسٹیٹ ہڈ) کی بحالی کے مطالبے کو کشمیر کی ترقیاتی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بطور جواز استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وادی بھر میں ترقیاتی کام تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہا کہ سڑکوں، اسپتالوں اور دیگر عوامی بنیادی ڈھانچے کی حالت اس بات کی عکاس ہے کہ ترقیاتی سرگرمیاں تقریباً رک چکی ہیں۔ ان کے مطابق کشمیر میں تعمیراتی سیزن اپریل سے ستمبر کے آخر تک رہتا ہے، جس کا نصف سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن بیشتر منصوبوں پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی ٹھیکیدار ادائیگیوں میں تاخیر، تعمیراتی سامان کی قلت اور کانکنی کے وسائل کی الاٹمنٹ میں مبینہ امتیازی پالیسیوں کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ بخاری نے کہا کہ ریت، پتھر اور دیگر خام مال بیرونی ٹھیکیداروں کو لیز پر دیے جا رہے ہیں، جس کے باعث مقامی ٹھیکیداروں کو یہی سامان زیادہ قیمت پر خریدنا پڑ رہا ہے۔اپنی پارٹی صدر نے ایران۔امریکہ جنگ کے باعث بٹومن کی قیمتوں میں اضافے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سڑکوں کی تعمیر کئی ٹھیکیداروں کے لیے مالی طور پر ناقابلِ عمل ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ٹھیکیداروں پر ٹینڈرز میں حصہ نہ لینے کا الزام لگاتی ہے، لیکن گزشتہ کئی برسوں سے مکمل کیے گئے کاموں کی ادائیگیاں ابھی تک نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے ٹھیکیدار مزید کام جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔یو این ایس کے مطابق بخاری نے مزید الزام عائد کیا کہ ٹینڈرنگ کے قواعد میں تبدیلی کرکے پلانٹ اور مشینری سے متعلق لازمی شرائط ختم کر دی گئی ہیں، جس سے ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر منفی اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے خود وہ حفاظتی تقاضے کمزور کیے ہیں جو معیاری تعمیرات کو یقینی بناتے تھے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سڑکوں، اسپتالوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو اولین ترجیح دی جائے کیونکہ بہتر انفراسٹرکچر سیاحت، صحت اور معیشت کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔الطاف بخاری نے کہا کہ حکومت ریاستی درجے کے مطالبے کو ہر مسئلے کا بہانہ نہ بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کے پاس اختیارات محدود ہیں تو جو اختیارات موجود ہیں انہیں مؤثر انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بہتر حکمرانی اور ترقی فراہم کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ بخاری نے کہا کہ صرف سیاحت پر انحصار کرکے عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی ضروری ہے۔اپنی پارٹی صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ترقیاتی فنڈز کے استعمال سے متعلق ایکوائٹ پیپر جاری کرے اور یہ بھی واضح کرے کہ کتنے ترقیاتی فنڈز خرچ نہیں ہو سکے۔ انہوں نے گزشتہ برس تقریباً 7 ہزار کروڑ روپے کے فنڈز استعمال نہ ہونے کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے اس کی وضاحت طلب کی۔










