atal dulloo

چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں مرکزی معاونت والی سکیموں کی عمل آوری کا جائزہ لیا

اِستفادہ کنندگان پر مبنی سکیموں کی صدفیصد کوریج اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے پر زور

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے متعلقہ اِنتظامی سیکرٹریوں ایک میراتھن میٹنگ میں جموں و کشمیر بھر میںعملائی جا رہی مرکزی معاونت والی سکیموں اور اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی عمل آوری اور پیش رفت کا جائزہ لیا۔ دورانِ میٹنگ متعلقہ محکموں کے اِنتظامی سیکرٹریوں نے اپنی متعلقہ سکیموں کے تحت حاصل ہونے والی طبعی و مالی پیش رفت، مقررہ اہداف، عمل درآمد میں درپیش چیلنجوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی پرزنٹیشنز پیش کیں۔چیف سیکرٹری نے تعلیم، صحت، بجلی، ڈیجیٹل کنکٹویٹی، دیہی و شہری ترقی، ہاؤسنگ، سماجی بہبود، مالیات، سیاحت، ہنرمندی کی ترقی،پانی کی فراہمی، ٹرانسپورٹ، ماہی پروری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں جاری سکیموں کا شعبہ وار جائزہ لیا۔ اُنہوں نے کہا کہ فلیگ شپ سکیموں کی مؤثر عمل آوری عوامی خدمات کی بہتر فراہمی اور یونین ٹیریٹری میں جامع سماجی و اِقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔اُنہوں نے نتائج پر مبنی طرزِ حکمرانی پر زور دیتے ہوئے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ اہداف کی مسلسل نگرانی کریں، عمل درآمد میں حائل رُکاوٹوں کو بروقت دور کریں اور دستیاب فنڈز کے زیادہ سے زیادہ اِستعمال کو یقینی بنائیں۔ اَتل ڈولو نے انتظامی سیکرٹریوں پر زور دیا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، فلاحی سکیموں کے تحت اہل اِستفادہ کنندگان کی سچیوریشن اور زمینی سطح پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنائیں تاکہ ان سکیموں کے فوائد ہر مستحق شہری تک پہنچ سکیں۔چیف سیکرٹری نے متعدد فلیگ شپ پروگراموں میں حاصل ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر محکمے کو مقررہ وقت کے اندر مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لئے مزید تیزی سے کام کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے مضبوط نگرانی کے طریقۂ کار،عمل آوری ایجنسیوں کے مابین ہم آہنگی اور منصوبوں کے معیاری نفاذ اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے باقاعدہ فیلڈ معائینوں کی پر زور دیا۔اُنہوںنے تمام اِنتظامی سیکرٹریوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی متعلقہ سکیموں کی طبعی و مالی پیش رفت کی قریبی نگرانی کریں، عمل آوری کے مسائل کے فوری حل کو یقینی بنائیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں بروقت منظوریوں اور فنڈز کی واگزاری کے لئے مرکزی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھیں۔
تعلیمی شعبے کا جائزہ لیتے ہوئے میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ سماگراہ شکھشا اور پی ایم ایس ایچ آر آئی سکولوںکے تحت اہم پیش رفت حاصل کی گئی جس میں ڈیجیٹل تبدیلی، سمارٹ کلاس رومز، آئی سی ٹی لیبارٹریاں، اٹل ٹنکرنگ لیبز، پیشہ ورانہ تعلیم،شمولیتی تعلیم، اِبتدائی بچپن کی نگہداشت، ہوسٹل بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی پر زور دیا گیا ہے۔سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ پردھان منتری کوشل وِکاس یوجنا (پی ایم کے وِی وائی) کے تحت ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو صنعتوں کی ضروریات کے مطابق مہارت کی تربیت دی جا چکی ہے جبکہ نئے شروع کئے گئے پی ایم ۔ایس اِی ٹی یو پروگرام کا نفاذ شروع کیا گیا ہے تاکہ صنعتی شراکت داری کے ذریعے صنعتی تربیتی اِداروں کو جدید مراکز میں تبدیل کیا جا سکے۔
چیف سیکرٹری کو پاور سیکٹر کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور یونین ٹیریٹری میں ہزاروں روف ٹاپ سولر تنصیبات مکمل کی جا چکی ہیں جس سے مستفید اَفراد کے بجلی کے بِلوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ اِسی دوران محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے تاکہ صاف توانائی اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دِیا جا سکے۔میٹنگ میں سمارٹ میٹرنگ اور ری ویمپڈ ڈِسٹری بیوشن سیکٹر سکیم (آر ڈِی ایس ایس)کی عمل آوری کابھی جائزہ لیا گیا جس کے تحت بڑے پیمانے پر سمارٹ کنزیومر میٹروں کی تنصیب اور بجلی کی تقسیم کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ آپریشنل کارکردگی بہتر ہو، ترسیلی نقصانات میں کمی آئے اور جموں و کشمیر بھر میں بجلی کی قابل اعتماد فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ڈیجیٹل کنکٹویٹی پر اِنفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ بھارت نیٹ پروجیکٹ کے تحت کافی پیش رفت ہوئی ہے اور دیہی علاقوں میں تیز رفتار براڈبینڈ کنکٹویٹی فراہم کرنے کے لئے گرام پنچایتوں میں سروے اور عمل درآمد کا کام جاری ہے۔میٹنگ میں 4جی سیچوریشن پروجیکٹ اور اس سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے کاموں کا بھی جائزہ لیا گیا جن کا مقصد دُور دراز علاقوں تک بغیر کسی رُکاوٹ کے ڈیجیٹل کنکٹویٹی کو وسعت دینا ہے۔ محکمہ خزانہ نے مالی شمولیت سے متعلق اقدامات جن میں پردھان منتری جن دھن یوجنا اور پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا شامل ہیں، کے تحت پیش رفت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اضلاع میں بینکنگ تک رسائی ،اِنشورنس کوریج اور مستفیدین کے اندراج میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے ان سکیموں کے تحت تمام اہل استفادہ کنندگان تک رسائی کے لئے بیداری اور رابطہ مہمات کو مزید تیز کرنے پر زور دیا۔محکمہ سماجی بہبود نے میٹنگ کو پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا، سکشم آنگن واڑی مراکز، پوشن 2.0 اور دیگر غذائیت سے متعلق پروگراموں کی عمل آوری کے بارے میں جانکاری دِی جس کا مقصد ماؤں اور بچوں کی صحت، غذائیت اور ابتدائی بچپن کی نگہداشت کو بہتر بنانا ہے۔ چیف سیکرٹری نے اہل اِستفادہ کنندگان کے معاملات کو بروقت نمٹانے اور زیادہ سے زیادہ مؤثر نتائج حاصل کرنے کے لئے مختلف محکموں کے درمیان بہتر اشتراک پر زور دیا۔میٹنگ میں جل جیون مشن، پردھان منتری آواس یوجنا (شہری وگرامین)، سوچھ بھارت مشن، آیوشمان بھارت، نیشنل ہیلتھ مشن، امرت مشن، سیاحتی بنیادی ڈھانچے، ماہی پروری کی ترقی، ٹرانسپورٹ کنکٹویٹی اور جموں و کشمیر میں عملائی جا رہی متعدد دیگر مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ مرکزی معاونت والی سکیموں کا شفاف، جوابدہ اور نتائج پر مبنی نفاذ یقینی بنانا ناگزیر ہے تاکہ ان فلیگ شپ پروگراموں سے حاصل ہونے والے ترقیاتی فوائد جموں و کشمیر کے ہر خطے اور معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔