مون سون اور مغربی ہواؤں کا ملاپ، 6 جولائی تک مزید موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی
سرینگر// جموں و کشمیر میں جنوب مغربی مون سون اور نمی سے بھرپور مغربی ہواؤں کے فعال نظام کے باعث مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، بادل پھٹنے، اچانک سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے متعدد واقعات پیش آئے، جس سے سڑکوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی، کئی بازار اور تعلیمی ادارے زیر آب آ گئے، جبکہ گزشتہ کئی روز سے جاری شدید گرمی کی لہر کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ ادھر محکمہ موسمیات نے 6 جولائی تک پورے جموں و کشمیر میں مزید بارش، گرج چمک، آسمانی بجلی، تیز ہواؤں اور بعض مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے عوام، سیاحوں اور بالخصوص شری امرناتھ یاترا کے زائرین کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔یو این ایس کے مطابق سب سے زیادہ نقصان وادی چناب کے ضلع ڈوڈہ کے بھلیسہ علاقے میں ہوا، جہاں کلال گیسر اور سیرو دیہات میں شدید بارش کے بعد بادل پھٹنے کے واقعات رونما ہوئے۔ اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے سڑکوں پر ملبہ بچھا دیا، ایک پل اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا جبکہ متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ کھڑی فصلوں اور زرعی اراضی کو بھی نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کے مطابق موسم بہتر ہوتے ہی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔اسی دوران گندوہ کے مقام پر ایک برساتی نالے میں طغیانی آنے سے سڑک پر مٹی اور پتھر جمع ہوگئے، جس کے باعث ٹریفک کچھ وقت کے لیے معطل رہی۔ بعد ازاں مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹا کر سڑک کو دوبارہ آمد و رفت کے لیے بحال کر دیا گیا۔ضلع ادھم پور میں شدید بارش کے باعث چنینی۔لٹی۔ڈوڈو سڑک پر بوپ سرار کے مقام کے نزدیک لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جہاں بڑے بڑے پتھر سڑک پر آ گرنے سے ٹریفک تین گھنٹے سے زائد عرصے تک معطل رہی۔ اس دوران لٹی تحصیل اور ڈوڈو سب ڈویڑن کا رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ دونوں جانب درجنوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں۔ بعد میں متعلقہ محکموں نے سڑک سے ملبہ ہٹا کر آمد و رفت بحال کر دی۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران جموں خطے میں بھی موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سانبہ میں 62.5 ملی میٹر، جموں شہر میں 35.8 ملی میٹر، کٹھوعہ میں 23.8 ملی میٹر، راجوری میں 19.6 ملی میٹر اور کٹرہ میں 12 ملی میٹر بارش درج کی گئی۔ وادی? چناب اور پیر پنچال کے کئی علاقوں میں بھی شدید بارش کے باعث سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔یو این ایس کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے لارنو علاقے کے گوری ڈرمن گاؤں کے میر محلہ میں اچانک سیلابی ریل آنے سے ایک سرکاری پرائمری اسکول زیر آب آ گیا۔ اس وقت اسکول میں تدریسی سرگرمیاں جاری تھیں، تاہم مقامی لوگوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں پولیس، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور سول انتظامیہ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور نقصانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔شدید بارش کے باعث عیش مقام بازار اور حضرت زین الدین ولیؒ کے آستانہ عالیہ کے اطراف بھی پانی جمع ہوگیا، جبکہ پہلگام، کْلگام، پلوامہ، شوپیان، بڈگام، گاندربل اور شمالی کشمیر کے بالائی علاقوں میں بھی وقفے وقفے سے بارش اور تیز ہوائیں چلتی رہیں۔ وادی کے میدانی علاقوں میں دن بھر ابر آلود موسم رہا۔خراب موسمی حالات کے باعث مذہبی یاتراؤں پر بھی اثر پڑا۔ انتظامیہ نے مسلسل بارش، پھسلن اور پتھر گرنے کے خدشات کے پیش نظر ضلع کشتواڑ میں ماچیل ماتا یاترا اور ہماچل پردیش کے پانگی جانے والی مندھل ماتا یاترا کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ یاتریوں سے کہا گیا ہے کہ موسم بہتر ہونے تک سفر سے گریز کریں۔محکمہ موسمیات سرینگر کے مطابق 2 جولائی سے 6 جولائی تک جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش جبکہ جموں ڈویڑن کے اضلاع جموں، سانبہ، کٹھوعہ، ادھم پور، ریاسی، رام بن، ڈوڈہ اور کشتواڑ میں بعض مقامات پر موسلادھار بارش متوقع ہے۔ محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران گرج چمک، آسمانی بجلی اور 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر ہوا کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔یو این ایس کے مطابق محکمہ نے مزید کہا کہ شدید بارشوں کے نتیجے میں حساس اور پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے، پتھر کھسکنے اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ اسی پیش نظر جموں ڈویڑن کے متعدد اضلاع کے لیے 2 اور 3 جولائی کو اورنج الرٹ جبکہ کشمیر ڈویڑن کے بیشتر علاقوں کے لیے ابتدائی طور پر ییلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ 4 جولائی کے بعد موسم میں بتدریج بہتری آئے گی، تاہم 6 جولائی تک وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کا سلسلہ برقرار رہ سکتا ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ حالیہ بارشوں سے گزشتہ کئی روز سے جاری شدید گرمی کی لہر ٹوٹ گئی ہے اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پیر اور منگل کو بالترتیب 35.5 اور 35.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ ہونے کے بعد بدھ کے روز کم ہو کر 31.5 ڈگری سیلسیس رہ گیا۔محکمہ موسمیات نے رہائشیوں، سیاحوں اور بالخصوص شری امرناتھ یاترا پر جانے والے زائرین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پہاڑی راستوں پر سفر کے دوران مکمل احتیاط برتیں، تازہ ترین موسمی بلیٹن اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں، کیونکہ شدید بارش کے دوران مقامی سطح پر سیلاب، پتھر گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات کسی بھی وقت پیش آ سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔










