جموں و کشمیر میں زیادہ سے زیادہ9 وزراء کی گنجائش، کانگریس کو نمائندگی ملنے پر بھی قیاس آرائیاں
سرینگر// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی حکومت کی پہلی کابینہ توسیع اور رد و بدل کے واضح اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل 20 جولائی کے آس پاس انجام دیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ میں نئے چہروں کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ وزراء کے قلمدانوں میں بھی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ذرائع کے مطابق نیشنل کانفرنس کے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کی جانب سے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے پیش نظر کابینہ میں رد و بدل 20 جولائی سے چند روز قبل یا بعد کیا جا سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق جموں و کشمیر اسمبلی کی مجموعی 90 نشستوں کے پیش نظر یونین ٹیریٹری میں آئینی طور پر وزیر اعلیٰ سمیت زیادہ سے زیادہ نو وزراء پر مشتمل کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے۔ اس وقت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ کابینہ میں صرف پانچ وزرائشامل ہیں، جس کے باعث تین وزارتیں خالی ہیں۔موجودہ کابینہ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، وزیر صحت، طبی تعلیم، تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ ایتو اور وزیر زراعت، دیہی ترقی و پنچایتی راج جاوید احمد ڈار کا تعلق کشمیر ڈویژن سے ہے، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری، وزیر جل شکتی، آبپاشی، فلڈ کنٹرول اور جنگلات جاوید رانا اور وزیر ٹرانسپورٹ و کھیل ستیش شرما جموں ڈویژن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ستیش شرما آزاد رکن اسمبلی ہیں جبکہ دیگر تمام وزراء نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں صرف توسیع ہی نہیں بلکہ مختلف محکموں کی ازسرنو تقسیم بھی متوقع ہے، کیونکہ موجودہ وزراء کے پاس بیک وقت تین سے چار محکموں کی ذمہ داریاں ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ خود بھی مالیات، ریونیو، ہاؤسنگ و شہری ترقی، سیاحت، جنرل ایڈمنسٹریشن سمیت کئی اہم محکمے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔اگر موجودہ وزراء میں سے کسی کو کابینہ سے نہیں ہٹایا جاتا تو وزیر اعلیٰ زیادہ سے زیادہ تین نئے وزراء کو شامل کر سکتے ہیں، جس کے بعد کابینہ اپنی آئینی حد یعنی نو ارکان تک پہنچ جائے گی۔سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ آیا نیشنل کانفرنس کی اتحادی جماعت کانگریس کو اس مرتبہ وزارت میں نمائندگی دی جائے گی یا نہیں۔ اگرچہ دونوں جماعتوں نے اسمبلی انتخابات اتحاد کے ساتھ لڑے تھے، تاہم حکومت کی تشکیل کے بعد کانگریس کو کابینہ میں کوئی جگہ نہیں دی گئی۔ 90 رکنی اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے 41، کانگریس کے 6، سی پی ایم کے ایک اور پانچ آزاد ارکان کی حمایت سے حکومت اکثریت حاصل کیے ہوئے ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ 3 جون کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ڈاچی گام میں نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی، چار آزاد اراکین اور سی پی ایم کے رکن اسمبلی ایم وائی تاریگامی کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا تھا، جس میں پارٹی امور کے علاوہ حکومتی کارکردگی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں بعض ارکان اسمبلی نے فنڈز کی تقسیم اور دیگر انتظامی معاملات پر چند وزراء کی کارکردگی پر سوالات بھی اٹھائے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کابینہ میں توسیع اور رد و بدل جولائی کے تیسرے ہفتے میں عمل میں آتا ہے تو نئے وزراء کو ستمبر میں متوقع اسمبلی اجلاس سے قبل اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے اور محکموں کو سمجھنے کے لیے مناسب وقت مل جائے گا۔ تاہم حکومت کی جانب سے کابینہ میں توسیع یا رد و بدل کے حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔










