سپریم کورٹ کی تشویش کے بعد ہائی کورٹ متحرک

سپریم کورٹ کی تشویش کے بعد ہائی کورٹ متحرک

جموں کشمیر میںزیر التوا فوجداری مقدمات تیز رفتاری سے نمٹانے کا فیصلہ

سرینگر// سپریم کورٹ کی جانب سے برسوں سے زیر سماعت مقدمات اور انڈر ٹرائل قیدیوں کی طویل حراست پر تشویش کے اظہار کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں طویل عرصے سے زیر التوا فوجداری مقدمات کو تیز رفتاری سے نمٹانے کے لیے ایک خصوصی مہم شروع کر دی ہے۔یو این ایس کے مطابق اس سلسلے میں سب سے پرانے 15 مقدمات کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر 334 مقدمات میں بھی کارروائی تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کی جانب سے جاری احکامات سپریم کورٹ کے 21 اپریل 2026 کے فیصلے، انوپ سنگھ بنام یونین ٹیریٹری آف جموں و کشمیر، کی روشنی میں صادر کیے گئے ہیں، جس میں طویل عرصے سے جیلوں میں بند انڈر ٹرائل قیدیوں کے مقدمات میں غیر معمولی تاخیر پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ہائی کورٹ نے نہ صرف 15 قدیم ترین مقدمات کو فوری سماعت کے لیے منتخب کیا ہے بلکہ جموں و کشمیر اور لداخ کی مختلف جیلوں میں پانچ سال یا اس سے زائد عرصے سے قید ایسے سیکڑوں انڈر ٹرائل قیدیوں کی تفصیلات بھی تمام ماتحت عدالتوں کو ارسال کی ہیں جن کے مقدمات ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ مقدمات سرینگر، جموں، بارہمولہ، کپوارہ، بانڈی پورہ، بڈگام، گاندربل، پلوامہ، شوپیان، ڈوڈہ، کشتواڑ، رام بن، راجوری، پونچھ، کٹھوعہ اور سانبہ سمیت تقریباً تمام اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں قتل، اغوا، منشیات، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے)، آرمز ایکٹ، دھماکہ خیز مواد ایکٹ، پوکسو ایکٹ، فارنرز ایکٹ اور دیگر سنگین جرائم سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق بیشتر انڈر ٹرائل قیدی پانچ سے سات سال سے جیلوں میں ہیں، جبکہ کئی ملزمانآٹھ سے دس سال، متعدد 12 سے 15 سال اور چند افراد 18 برس کے قریب عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں، حالانکہ ان کے مقدمات کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔یو این ایس کے مطابق ہائی کورٹ نے سب سے پرانے 15 مقدمات میں متعلقہ عدالتوں کو مخصوص ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے چند ماہ سے لے کر تین سال کے اندر مقدمات نمٹانے کی ہدایت دی ہے۔ ان میں سب سے پرانا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 16/2007، تھانہ نشاط، سرینگر کا ہے، جس میں ایک ملزم تقریباً 17 سال 10 ماہ سے عدالتی حراست میں ہے۔ چہارم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج سرینگر کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ چار سے پانچ ماہ میں مکمل کیا جائے۔اسی طرحتھانہ اوڑی کے ایک این ڈی پی ایس مقدمے میں ملزم 12 سال دو ماہ سے قید ہے، جبکہ ڈوڈہ کے متعدد قتل کے مقدمات میں بعض ملزمان 15 برس سے زائد عرصے سے فیصلے کے منتظر ہیں۔ سوپور، پانزالہ اور تازو کے قتل کے مقدمات بھی ترجیحی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق ہائی کورٹ نے تمام ماتحت عدالتوں کو ہدایت دی ہے کہ طویل عرصے سے زیر حراست انڈر ٹرائل قیدیوں کے مقدمات کو ترجیح دی جائے، غیر ضروری التوا سے گریز کیا جائے، گواہوں کی بروقت حاضری یقینی بنائی جائے، ویڈیو کانفرنسنگ سمیت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں قانونی امداد فراہم کر کے مقدمات کی کارروائی میں تاخیر نہ ہونے دی جائے۔عدالت عظمیٰ کی ہدایات کی روشنی میں ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی صرف 15 مقدمات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جموں و کشمیر اور لداخ کی تمام عدالتوں کو ایسے مقدمات کی نشاندہی کر کے ان کی جلد سماعت اور بروقت فیصلے یقینی بنانے ہوں گے تاکہ شہریوں کو آئین کی جانب سے فراہم کردہ فوری انصاف کے بنیادی حق کا تحفظ کیا جا سکے۔