One in every two urban women in Jammu and Kashmir is obese

جموں و کشمیر میں ہر 2میں سے ایک شہری خاتون موٹاپے کا شکار

طرزِ زندگی میں تبدیلی، ورزش کی کمی اور غیر صحت بخش خوراک بحران کی بڑی وجہ// معالجین

سرینگر// جموں و کشمیر میں شہری آبادی خصوصاً خواتین میں موٹاپے اور زائد وزن کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے، جبکہ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں بھی گزشتہ پانچ برس کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نیشنل فیملی ہیلتھ سروے،6 کی تازہ رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں تقریباً ہر دو میں سے ایک خاتون زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہے، جو ریاست میں ابھرتے ہوئے طرزِ زندگی سے متعلق صحتی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔یو این ایس کے مطابق رپورٹ، جو 2023-24کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، کے مطابق 15 سے 49 برس کی عمر کی 48.7 فیصد شہری خواتین کا باڈی ماس انڈیکس 25 کلوگرام فی مربع میٹر یا اس سے زیادہ ہے، جس کی بنیاد پر انہیں زائد وزن یا موٹاپے کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ باڈی ماس انڈیکس قد اور وزن کی بنیاد پر جسم میں چربی کی مقدار کا اندازہ لگانے کا ایک عالمی پیمانہ ہے، جس کے ذریعے موٹاپے سے جڑے صحتی خطرات کا تعین کیا جاتا ہے۔اگرچہ دیہی علاقوں میں بھی زائد وزن ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، تاہم وہاں اس کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں کم ہے۔ سروے کے مطابق 33.3 فیصد دیہی خواتین زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ مجموعی طور پر جموں و کشمیر میں خواتین میں اس کی شرح بڑھ کر 36.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو این ایف ایچ ایس،5 (2019-21) کے دوران 29.4 فیصد تھی۔ اس طرح صرف پانچ برس میں اس شرح میں تقریباً سات فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسری جانب مردوں میں زائد وزن کی شرح میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ این ایف ایچ ایس،6 کے مطابق 27.1 فیصد مرد زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ این ایف ایچ ایس،5 میں یہ شرح 31.7 فیصد تھی۔ اس کے باوجود ہر چار میں سے ایک مرد اب بھی زائد وزن کے مسئلے سے دوچار ہے۔رپورٹ کے مطابق مسئلہ صرف وزن تک محدود نہیں بلکہ ذیابیطس کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ جموں و کشمیر میں 15 برس یا اس سے زائد عمر کی 13 فیصد خواتین میں خون میں شوگر کی سطح 140 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ ہے یا وہ ذیابیطس پر قابو پانے کے لیے ادویات استعمال کر رہی ہیں۔ پانچ برس قبل یہ شرح 8.7 فیصد تھی۔اسی طرح مردوں میں بھی ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ این ایف ایچ ایس،5 میں 8 فیصد مرد بلند شوگر کے شکار تھے، جبکہ این ایف ایچ ایس،6 میں یہ شرح بڑھ کر 11.3 فیصد ہو گئی ہے، یعنی اب ہر نو میں سے ایک بالغ مرد ذیابیطس یا بلند شوگر کی سطح سے متاثر ہے۔یو این ایس کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں کا موازنہ کریں تو 14.6 فیصد شہری خواتین اور 11.9 فیصد دیہی خواتین میں شوگر کی سطح بلند پائی گئی، جبکہ مردوں میں 14.3 فیصد شہری اور 10.3 فیصد دیہی افراد بلند یا انتہائی بلند شوگر کے شکار ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ دوسری جانب غذائی قلت کا مسئلہ بھی برقرار ہے۔ تقریباً 9.5 فیصد خواتین اور مردوں کا باڈی ماس انڈیکس 18.5 سے کم ہے، جو کم وزن یا غذائی قلت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ شرح گزشتہ سروے کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق جموں و کشمیر اس وقت غذائی مسائل کے “دوہرے بوجھ” سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف موٹاپا اور زائد وزن بڑھ رہا ہے، تو دوسری جانب غذائی قلت بھی تشویشناک سطح پر موجود ہے۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے شعبہ سوشل اینڈ پریونٹیو میڈیسن کے سابق سربراہ پروفیسر ایس ایم سلیم خان نے خبردار کیا کہ جموں و کشمیر میں متعدی بیماریوں سے طرزِ زندگی سے وابستہ بیماریوں کی جانب منتقلی انتہائی تیز رفتاری سے ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، ورزش اور غیر متعدی بیماریوں (این سی ڈیز) کی بروقت اسکریننگ پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں قبل از وقت بیماریوں، اموات اور صحت کے شعبے پر مالی بوجھ میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق بدلتی غذائی عادات، جسمانی سرگرمیوں میں کمی، پراسیسڈ خوراک کا بڑھتا استعمال، طویل عرصے تک بیٹھے رہنے کا رجحان اور ذہنی دباؤ میں اضافہ جموں و کشمیر میں موٹاپے اور ذیابیطس کی بنیادی وجوہات بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق زائد وزن ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، فالج اور گردوں کی دائمی بیماریوں کے سب سے بڑے خطراتی عوامل میں شمار ہوتا ہے۔