100 ڈگری کالجوں میں 100 سے بھی کم داخلے، اندراج کا بحران سنگین

اعلیٰ تعلیم محکمہ میں تشویش، بیشتر سرکاری کالج طلبہ کو راغب کرنے میں ناکام

سرینگر//جموں و کشمیر کے سرکاری ڈگری کالجوں میں رواں تعلیمی سیشن کے دوران انڈر گریجویٹ داخلوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 142 گورنمنٹ ڈگری کالجوں میں سے 100 کالج ایسے ہیں جہاں داخلہ عمل کے پہلے دو مراحل مکمل ہونے کے باوجود 100 سے بھی کم طلبہ نے داخلہ لیا ہے، جس سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اندراج کے بڑھتے ہوئے بحران پر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے مطابق طلبہ کی اکثریت چند پرانے اور معروف کالجوں تک محدود ہو گئی ہے، جبکہ بیشتر نئے اور دور دراز علاقوں میں قائم کالج طلبہ کو اپنی جانب راغب کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اس صورتحال کا جائزہ محکمہ اعلیٰ تعلیم کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں لیا گیا، جس کی صدارت وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے کی۔ اجلاس میں تعلیمی سال 2026-27کے لیے جاری انڈر گریجویٹ داخلہ عمل کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ صرف چند ہی کالج ایسے ہیں جہاں داخلوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر سکی، جبکہ ایک ہزار سے زیادہ داخلے حاصل کرنے والے اداروں کی تعداد اس سے بھی کم رہی۔جموں ڈویڑن میں گورنمنٹ ڈگری کالج گاندھی نگر نے سب سے زیادہ 1508 داخلوں کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ جی جی ایم سائنس کالج میں 1326، ایم اے ایم کالج میں 1306 اور گورنمنٹ ڈگری کالج پریڈ میں 1146 طلبہ نے داخلہ لیا۔یو این ایس کے مطابق اسی طرح کشمیر ڈویڑن میں امر سنگھ کالج سرینگر 1702 داخلوں کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ گورنمنٹ ڈگری کالج اننت ناگ میں 1552، گورنمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ میں 1205 اور گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور میں 856 طلبہ نے داخلہ لیا۔اس کے برعکس متعدد کالجوں میں داخلوں کی تعداد دو ہندسوں تک محدود رہی، جبکہ بعض اداروں میں پہلے دو داخلہ مراحل مکمل ہونے کے باوجود 20 سے بھی کم طلبہ نے داخلہ حاصل کیا۔طلبہ کے داخلوں میں اس بڑھتے ہوئے تفاوت نے محکمہ اعلیٰ تعلیم میں کئی کالجوں کی افادیت اور بقا کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے، خصوصاً وہ نئے قائم شدہ کالج جہاں مسلسل کم داخلے ہو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق جائزہ اجلاس کے دوران بعض افسران نے سوپور کے گورنمنٹ ڈگری کالج بومئی کو مسلسل کم داخلوں کے باعث بند کرنے کی تجویز بھی پیش کی، تاہم وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور کالج کو بند کرنے کے بجائے طلبہ کے داخلوں میں اضافہ کرنے کے امکانات پر غور کرنے کی ہدایت دی۔محکمہ اعلیٰ تعلیم اب ایسے اقدامات پر غور کر رہا ہے جن کے ذریعے سرکاری ڈگری کالجوں میں طلبہ کی تعداد بڑھائی جا سکے اور کم داخلوں سے دوچار اداروں کو فعال رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔