یونیسکو میں شمولیت سے صدیوں پرانی صوفی روایت کو عالمی سطح پر فروغ ملے گا// عمر عبداللہ
سرینگر// وزیر اعلیٰ جموں و کشمیرعمر عبداللہ نے مرکزی وزیر برائے ثقافت و سیاحت گجیندر سنگھ شیخاوت کو خط لکھ کر کشمیری صوفیانہ موسیقی (صوفیانہ کلام/صوفیانہ موسیقی) کو یونیسکو کے غیر محسوس ثقافتی ورثہ کی نمائندہ فہرست میں شامل کرانے کے عمل کا آغاز کرنے کی اپیل کی ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ نے اپنے خط میں کہا کہ کشمیری صوفیانہ موسیقی جموں و کشمیر کی عظیم ترین ثقافتی، روحانی اور کلاسیکی روایات میں سے ایک ہے، جو صوفی فلسفہ، عقیدت بھری شاعری اور کلاسیکی دھنوں کا منفرد امتزاج پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فن صدیوں سے کشمیر کی مشترکہ تہذیب، مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کی علامت رہا ہے۔عمر عبداللہ نے خط میں اس تجویز کی حمایت کی جو انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج جموں و کشمیر چیپٹر نے پیش کی ہے۔ اس تجویز میں کشمیری صوفیانہ موسیقی کو یونیسکو کی نمائندہ فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر اس موسیقی کو یونیسکو کی جانب سے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے تو نہ صرف اس قدیم روایت کو بین الاقوامی شناخت حاصل ہوگی بلکہ اس کے تحفظ، دستاویزی ریکارڈ، فروغ اور آنے والی نسلوں تک منتقلی میں بھی نمایاں مدد ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ یونیسکو میں نامزدگی کے لیے مقررہ طریقہ کار کے مطابق ایک جامع دستاویز تیار کرنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں انٹیک کشمیر چیپٹر نے اپنی تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے، کیونکہ ادارہ اس سے قبل بھی یونیسکو سے متعلق کئی ثقافتی منصوبوں پر کام کر چکا ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر سے درخواست کی کہ اس تجویز پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے ذریعے ضروری کارروائی کا آغاز کیا جائے تاکہ کشمیری صوفیانہ موسیقی کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرانے کی راہ ہموار ہو سکے۔انٹیک کی جانب سے 26 مئی کو پیش کی گئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ کشمیری صوفیانہ موسیقی یونیسکو کے غیر محسوس ثقافتی ورثہ کے تمام بنیادی معیار پر پورا اترتی ہے۔ ادارے کے مطابق ریاستی حکومت کی سفارش کے بعد یہ تجویز سنگیت ناٹک اکادمی کے ذریعے مرکزی وزارتِ ثقافت کو بھیجی جائے گی، جہاں سے مکمل نامزدگی دستاویز تیار کرکے یونیسکو کو ارسال کی جائے گی۔تجویزی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ یونیسکو کی فہرست میں شمولیت سے کشمیری صوفیانہ موسیقی کو عالمی سطح پر شناخت ملے گی، مقامی برادری کا ثقافتی اعتماد مضبوط ہوگا، تحقیق اور دستاویزی کام کو فروغ ملے گا اور پائیدار ثقافتی سیاحت کے امکانات بھی وسیع ہوں گے۔ یہ روایت صوفیانہ فکر، روحانی اقدار اور کشمیر کی ہم آہنگ تہذیب کی ایک زندہ علامت تصور کی جاتی ہے۔










