جاوید ڈار نے کیپکس اور مرکزی معاونت والی سکیموں کی عمل آوری کاجائزہ لیا

جاوید ڈار نے کیپکس اور مرکزی معاونت والی سکیموں کی عمل آوری کاجائزہ لیا

بروقت عمل درآمد ، شفافیت اور محکموں کے مابین بہتر ہم آہنگی پر زور

جموں//وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج،اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے دیہی ترقی، زراعت، باغبانی، مویشی پروری، بھیڑ پالن اور اِمدادِ باہمی محکموں کے سینئر اَفسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں جاری ترقیاتی پروگراموں اور اہم فلیگ شپ سکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں بنیادی طور پر مختلف محکموں میں کیپٹل ایکس پنڈیچر( سی اے پی اِی ایکس) اور مرکزی معاونت والی سکیموں (سی ایس ایس) کی عمل آوری کا جائزہ لیا گیا۔اُنہوں نے پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ فنڈز کے بہترین اِستعمال اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے تمام ترقیاتی کاموں کی کڑی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ہر محکمے کو مقررہ ٹائم لائنز پر عمل کرنا چاہیے، معیار کے اصول کو برقرار رکھنا چاہیے اور پروجیکٹ کی عمل آوری میں نتیجہ خیز طرزِ عمل اَپناناچاہیے تاکہ عوام تک ٹھوس فوائد پہنچ سکیں۔وزیر موصوف نے مویشی اور بھیڑ پالن شعبوں کا جائزہ لیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ زیادہ سے زیادہ مویشیوں کو لائیو سٹاک اِنشورنس سکیم کے تحت لانے کے لئے کوششیں تیز کی جائیں تاکہ کسانوں اور مویشی پالنے والوں کو زیادہ مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔اُنہوں نے محکمہ زراعت کے اَنفورسمنٹ وِنگ کو بھی ہدایت دی کہ وہ مقررہ رہنما اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کریں اور شفافیت، جوابدہی اور معیار کے اصولوں کی پابندی کو یقینی بنانے کے لئے فیلڈ اِنسپکشن کو مضبوط کریں۔جاوید ڈار نے باغبانی محکمہ کا جائزہ لیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ موجودہ کیننگ سینٹروں کو سیلف ہیلپ گروپوں ( ایس ایچ جی) کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے ان کا بھرپور اِستعمال کیا جائے تاکہ ویلیو ایڈیشن کو فروغ ملے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور کسانوں کی آمدنی میں اِضافہ ہو۔ اُنہوں نے محکمہ کو مزید ہدایت دی کہ پودے فراہم کرنے والی رجسٹرڈ نرسریوں کے لئے ایک مضبوط مانیٹرنگ میکانزم قائم کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کو صرف معیاری اور بیماری سے پاک پودے فراہم کئے جائیں اور ناقص معیار کے مواد کی فراہمی روکی جا سکے۔اُنہوںنے دیہی ترقی محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اَفسران کو ہدایت دی کہ پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی) کے تحت اِستفادہ کنندگان کے سروے کا عمل شفاف، منصفانہ اور مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ کوئی بھی اہل مستحق شخص محروم نہ رہ جائے اور نہ ہی کسی کو مناسب وجہ کے بغیر مسترد کیا جائے۔وزیرموصوف نے مزید ہدایت دی کہ جی ۔ آر اے ایم ۔جی نظام میں منتقلی سے قبل زیر اِلتوا ٔواجبات سے متعلق تمام ضروری دستاویزات مرتب کرکے پیش کی جائیں تاکہ باقی ماندہ فنڈز کے اِجرا ٔکا مطالبہ مرکزی حکومت کے سامنے مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا جا سکے۔ اُنہوں نے محکمہ سے 14ویں فائنانس کمیشن کے زیر اِلتوأ واجبات کی مکمل تفصیلات بھی بلا تاخیر پیش کرنے کو کہا۔اُنہوں نے کوآپریٹیو سیکٹر کا جائزہ لیتے ہوئے جموں و کشمیر میں ڈیری کوآپریٹیو تحریک کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کسانوں کی آمدنی کو بہتر بنایا جا سکے اور دیہی معاش کو بڑھایا جا سکے۔ اُنہوں نے محکمہ کو کوآپریٹیو سوسائٹیوں کے آڈِٹ کے عمل میں تیزی لانے اور شفاف و مؤثر کام کاج کے لئے قانونی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی۔وزیر موصوف نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیاکہ دیہی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے گا، حکمرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا اور فلاحی و ترقیاتی پروگراموں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اُنہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ قریبی تال میل کے ساتھ کام کریں، باقاعدگی سے نگرانی برقرار رکھیں اور مقررہ مدت میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے فعال طریقہ کار اَپنائیں۔بعد میں جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی عوامی وفود نے وزیر سے ملاقات کی اور اَپنے متعلقہ علاقوں کے ترقیاتی اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا۔ کابینہ وزیر جاوید ڈارنے وفود کو بغور سُنا اور یقین دِلایا کہ تمام جائز مطالبات اور شکایات کا متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ کر کے ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا اور انہیں مقررہ وقت کے اندر حل کیا جائے گا۔