وزیرا علیٰ نے جموں وکشمیر بائیر۔سیلر میٹ کا اِفتتاح کیا

وزیرا علیٰ نے جموں وکشمیر بائیر۔سیلر میٹ کا اِفتتاح کیا

کاریگروں ، خواتین اور کاروباری اَفراد کے ذریعے برآمدات بڑھانے پر زور

سری نگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شیرکشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی ) میں دو روزہ جموں و کشمیر اِنٹرنیشنل بائیر۔سیلر میٹ 2026 کا اِفتتاح کیا۔ اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت جموں و کشمیر کومقامی کاریگروں، خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس، دستکاری کے پروڈیوسر اور زراعت پر مبنی کاروباری اداروں کے لئے مارکیٹ تک رسائی کو بڑھا کر عالمی سطح پر مسابقتی برآمدی مرکز میں تبدیل کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔یہ بین الاقوامی تجارتی تقریب جموں و کشمیر ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن نے فیڈریشن آف اِنڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز (ایف آئی اِی او) کے اِشتراک سے منعقد کی ہے۔ اس تقریب میں زائد اَز 14 ممالک کے 30 سے زیادہ بین الاقوامی اور قومی خریدار شرکت کر رہے ہیںجس میں’اپنے دستکار کو جانیں‘ اقدام کے تحت 20 سے زیادہ لائیو مظاہرے بھی کئے گئے ہیں اور جموں و کشمیر بھر سے 100 سے زیادہ دستکاری، ہینڈ لوم اور زرعی کھانے کی مصنوعات کی نمائش کی گئی ہے۔تقریب میں خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے لئے خصوصی پویلین قائم کئے گئے جبکہ ’اپنے دست کار کو جانیں‘ اقدام کا مقصد خریداروں کو خطے کی مشہور مصنوعات تیار کرنے والے کاریگروں سے براہِ راست تعلق پیدا کرنا ہے۔اِفتتاح کے بعد وزیر اعلیٰ نے مختلف اضلاع سے آئے شرکأ کے سٹالوں کا معائینہ کیا جن میں خواتین سیلف ہیلپ گروپس، کاریگر اور کاروباری افراد شامل تھے جو روایتی دستکاری، ہینڈلوم مصنوعات، غذائی اشیأ اور دیگر مقامی مصنوعات پیش کر رہے تھے۔ اُنہوں نے غیر ملکی خریداروں وفود کی طرف سے لگائے سٹالوں کا بھی دورہ کیا اور جموں و کشمیر کے ساتھ بین الاقوامی تجارتی روابط مضبوط بنانے میں ان کی شرکت کو سراہا۔وزیر اعلیٰ نے بین الاقوامی خریداروں، برآمد کنندگان، کاریگروں، خواتین سیلف ہیلپ گروپس اور کاروباری افراد سے خطاب کرتے ہوئے دُنیا بھر سے آئے مندوبین کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ بائیر۔سیلر میٹ جموں و کشمیر کے برآمدی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔اُنہوں نے خطے کی تاریخی تجارتی وراثت کی عکاسی کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر صدیوں سے اپنی مصنوعات کی برآمد کا مرکز رہا ہے حالاں کہ روایتی برآمدی ذرائع سے نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک اور بیرون ملک سے خریدار یہاں سیاحت کے لئے آتے رہے، مقامی مصنوعات خریدتے رہے اور یوں کشمیری ہنرمندی کے عالمی سفیر بن گئے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ بدلتے حالات اور طویل عرصے تک سیاحت میں کمی نے اس روایتی نظام کو متاثر کیا جس کے باعث کاریگروں اور دستکاری سے وابستہ افراد کو خطے سے باہر نئی منڈیوں کی تلاش کرنا پڑی۔اُنہوں نے کہا کہ جموں اور سری نگر میں منظم بائیر۔سیلر میٹ منعقد کرنے کا عمل ان کے دورِ وزارتِ تجارت و حرفت میں شروع کیا گیا تھا تاکہ مقامی پیداوار کنندگان کو قومی اور بین الاقوامی منڈیوں سے دوبارہ جوڑا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بائر-سیلر میٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں روایتی برآمد کنندگان کے علاوہ خواتین سیلف ہیلپ گروپس، دیہی کاروباری افراد اور دور دراز علاقوں کے کاریگروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ زائد اَز 14 ممالک کے خریداروں کی شرکت مقامی پیداوار کنندگان کو عالمی صارفین کی ترجیحات اور بین الاقوامی منڈیوں کی ضروریات سمجھنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔اُنہوں نے ’اپنے دستکار کو جانیں’ اقدام کے تعارف کو اس سال کے ایونٹ کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک قرار دیا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ صرف مصنوعات کی نمائش تک محدود نہیں بلکہ خریداروں کو ان کاریگروں سے ملنے کا موقع فراہم کرتا ہے جن کی محنت اور ہنر ان مصنوعات کو زندگی بخشتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہاتھ سے تیار کردہ شال یا قالین صرف ایک داستان بیان نہیں کرتا بلکہ اس کے بنانے والے کاریگر سے ملاقات اس کی قدر اور عالمی کشش میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ دو روزہ تقریب خریداروں اور فروخت کنندگان دونوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی اور دیرپا تجارتی شراکت داریوں اور نئے کاروباری مواقع کو فروغ دے گی۔تقریب میں وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وکرم جیت سنگھ،چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایف آئی اِی او اَجے سہائے،منیجنگ ڈائریکٹر جموںوکشمیرٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن سدرشن کمار کے علاوہ سینئر افسران، برآمد کنندگان، کاریگر، کاروباری افراد، خواتین سیلف ہیلپ گروپس، غیر ملکی مندوبین اور تجارتی نمائندگان موجود تھے۔