منشیات کے خلاف جموں و کشمیر میں بڑا کریک ڈاؤن، 28 دنوں میں 646 گرفتار

منشیات کے خلاف جموں و کشمیر میں بڑا کریک ڈاؤن، 28 دنوں میں 646 گرفتار

’نشہ مْکت جموں و کشمیر ابھیان‘ میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت، 160 منشیات ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی

سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر میں منشیات کے خاتمے کے لیے جاری 100 روزہ ’’نشہ مْکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے تحت گزشتہ 28 دنوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں انجام دی گئی ہیں، جن کے دوران منشیات فروشی سے متعلق 614 ایف آئی آر درج کر کے 646 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 260 کلوگرام سے زائد مختلف قسم کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔سرکاری حکام کے مطابق اس مہم کے دوران منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 31 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں ضبط، منسلک یا منہدم کی گئی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ یہ مہم جموں و کشمیر میں منشیات کے خلاف چلائی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی اور جامع مہمات میں شمار کی جا رہی ہے، جس میں مختلف سرکاری ادارے مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اب تک این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت 614 مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ 435 منشیات فروشوں کو باقاعدہ طور پر گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر بھر میں 160 ایسے مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جنہیں منشیات کی سرگرمیوں کے اہم مراکز یا ’’ڈرگ ہاٹ اسپاٹس‘‘ قرار دیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق کارروائیوں کے دوران 3.8 کلو ہیروئن، 32.92 کلو چرس اور 222.31 کلو گانجہ سمیت مجموعی طور پر 260 کلوگرام سے زائد نشہ آور اشیا ضبط کی گئیں۔ اس کے علاوہ 21 مرلہ اراضی پر کی گئی غیر قانونی پوست کی کاشت بھی تباہ کر دی گئی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ مہم منوج سنہا کے تصور اور ہدایات کے تحت شروع کی گئی، جس میں محکمہ صحت، سماجی بہبود، اطلاعات، پولیس، محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر سرگرم عمل ہیں۔حکام کے مطابق منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے حکام نے 37 ایسے مکانات کو سیل یا منہدم کیا جو مبینہ طور پر منشیات فروشی سے وابستہ افراد کے زیر استعمال تھے۔ حکام کے مطابق تقریباً 25.97 کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط یا منسلک کی گئیں جبکہ مزید 3.70 کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں منہدم کی گئیں۔ اس کے علاوہ 1.67 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منقولہ جائیداد بھی ضبط کی گئی۔حکام نے بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال ہونے والے ٹرانسپورٹ اور فارماسیوٹیکل ذرائع کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس دوران 252 ڈرائیونگ لائسنس اور 111 گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی جبکہ 104 میڈیکل اسٹور لائسنس معطل اور دو لائسنس مکمل طور پر منسوخ کر دیے گئے۔’’نشہ مْکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے تحت عوامی بیداری پروگرام بھی بڑے پیمانے پر منعقد کیے گئے، جن میں ریلیاں، پدیاترا، سیمینار، اسکول و کالج سرگرمیاں، کھیلوں اور ثقافتی پروگراموں کے علاوہ دیہی سطح پر عوامی رابطہ مہمات شامل تھیں۔ حکام کے مطابق اب تک 2 لاکھ 16 ہزار 123 بیداری پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں ایک کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی۔منشیات سے متاثرہ افراد کی ذہنی صحت اور بحالی کے لیے ’’ٹیلی مانس‘‘ پروگرام کے تحت مشاورتی خدمات کو بھی مضبوط بنایا گیا۔ حکام نے بتایا کہ مہم کے دوران ٹیلی مانس کو 2786 کالز موصول ہوئیں جبکہ محکمہ صحت کے زیر انتظام نشہ بحالی مراکز میں 44 ہزار 602 مریضوں کا علاج کیا گیا، جن میں 44 ہزار 263 او پی ڈی اور 339 آئی پی ڈی مریض شامل ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 148 مریضوں کو کامیاب علاج کے بعد صحت یاب قرار دے کر ڈسچارج کیا گیا۔ حکام نے کہا کہ حکومت نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے سخت کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بیداری، مشاورت اور بحالی کے اقدامات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔واضح رہے کہ ’’نشہ مْکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کا آغاز 11 اپریل 2026 کو جموں میں ایک بڑی پدیاترا کے ساتھ کیا گیا تھا، جس کی قیادت منوج سنہا نے کی تھی۔ اس 100 روزہ مہم کا بنیادی مقصد خاص طور پر نوجوانوں کو منشیات کی لت سے محفوظ بنانا اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک معاشرہ بنانا ہے۔