مجاز الیکٹرانک ڈیوائسز کے بغیر کارروائی شہریوں کے حقوق کے منافی // موبائل مجسٹریٹ ٹریفک
سرینگر// یو این ایس//موبائل مجسٹریٹ ٹریفک کشمیر کی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ذاتی موبائل فون کے ذریعے ای۔چالان جاری کرنا قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ عدالت نے سری نگر کی رہائشی وکیل کے خلاف جاری کیے گئے پانچ ای۔چالان منسوخ کرتے ہوئے ٹریفک حکام کو مستقبل میں مرکزی موٹر وہیکل قواعد کے تحت مقررہ طریقہ کار پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی۔یہ فیصلہ اسپیشل موبائل مجسٹریٹ (ٹریفک) کشمیر شبیر احمد ملک؎ نے 5 مئی 2026 کو سنایا۔ مقدمہ مدینہ باغ، چھانہ پورہ کی رہائشی اور وکیل اہرا سعید کی جانب سے ایس ایس پی ٹریفک سٹی سری نگر کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔عدالت نے گاڑی نمبر JK01AU-7078 کے خلاف جاری پانچ ای۔چالان، جن میں ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی، قانونی ہدایات نہ ماننے اور فٹ پاتھ پر گاڑی چلانے جیسے الزامات شامل تھے، کالعدم قرار دے دیے۔16 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے مشاہدہ کیا کہ استغاثہ بار بار موقع دیے جانے کے باوجود کوئی گواہ پیش نہیں کر سکا اور نہ ہی یہ ثابت کیا جا سکا کہ ای۔چالان مرکزی موٹر وہیکل قواعد 1989 کے رول 167A کے مطابق مجاز الیکٹرانک انفورسمنٹ ڈیوائسز کے ذریعے جاری کیے گئے تھے۔درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ای۔چالان ‘‘غیر قانونی اور میکانکی انداز’’ میں جاری کیے گئے اور ان کے ساتھ منسلک تصاویر میں مبینہ خلاف ورزیوں کے واضح شواہد موجود نہیں تھے۔ عدالت نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ تصاویر میں ٹریفک سگنل، اسٹاپ لائن یا ممنوعہ راستے کی واضح نشاندہی نہیں تھی۔یو این ایس کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ رول 167A کے تحت صرف وہی الیکٹرانک انفورسمنٹ ڈیوائسز قابل قبول ہیں جو جیو ٹیگنگ، مستند ڈیٹا انضمام اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ آڈٹ ٹریل جیسی خصوصیات رکھتی ہوں۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی پولیس اہلکار کا ذاتی اسمارٹ فون محض استعمال کی بنیاد پر مجاز ڈیوائس تصور نہیں کیا جا سکتا۔مجسٹریٹ نے خبردار کیا کہ ذاتی موبائل فون کے ذریعے ای۔چالان جاری کرنے کی اجازت دینے سے جعلی چالان، شواہد میں ردوبدل اور شہریوں کو ہراساں کرنے جیسے سنگین خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔عدالت نے مزید کہا کہ ای۔چالان صرف اْن مخصوص خلاف ورزیوں کے لیے جاری کیے جا سکتے ہیں جن کی نشاندہی رول 167A(3) میں کی گئی ہے، جن میں اوور اسپیڈنگ، ہیلمٹ نہ پہننا، ریڈ لائٹ جمپنگ اور خطرناک ڈرائیونگ شامل ہیں۔فیصلے میں سپریم کورٹ کے مقدمہ ایس راجاسیکرن بنام یونین آف انڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ الیکٹرانک انفورسمنٹ ڈیوائسز کا استعمال قواعد کے مطابق ہونا چاہیے اور انہیں من مانی نگرانی یا بلا جواز جرمانوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے تمام پانچ ای۔چالان منسوخ کرتے ہوئے ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ آئندہ ای۔چالان صرف سرکاری طور پر منظور شدہ آلات کے ذریعے جاری کیے جائیں اور ہر چالان میں وقت، مقام اور دیگر لازمی قانونی تفصیلات درج ہوں۔










