سری نگر کی تاریخی ’’ بتہ گلی‘ ‘میں ذائقوں کی نئی داستان

سری نگر کی تاریخی ’’ بتہ گلی‘ ‘میں ذائقوں کی نئی داستان

گوشت سے سبزیوں تک: عوامی اعتماد کے بحران نے بدل دی فوڈ اسٹریٹ کی شناخت

سرینگر// یو این ایس// شہرسری نگر کے قلب، لالچوک میں واقع تاریخی اور عوامی طور پر معروف فوڈ اسٹریٹ ’’بتہ گلی‘‘آج ایک غیر معمولی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ کبھی کشمیری روایتی گوشت خوراک، خصوصاً رِستہ، کباب، یخنی، روغن جوش اور میتھ مازکی خوشبوؤں سے مہکتی یہ تنگ گلی اب زیادہ تر سبزیوں، دالوں اور سادہ گھریلو کھانوں کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ گزشتہ برس کے آوخر میں وادی کے مختلف علاقوں سے مبینہ طور پر خراب اور غیر معیاری گوشت کی برآمدگی کے بعد عوام کے اندر گوشت کے استعمال سے متعلق بے اعتمادی پیدا ہوئی، جس کے براہِ راست اثرات بتہ گلی کی کاروباری اور ثقافتی شناخت پر مرتب ہوئے ہیں۔ دکانداروں کے مطابق اب بیشتر گاہک گوشت سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے سبزی اور دال پر مشتمل کھانوں کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ روایتی کشمیری گوشت پکوانوں میں صرف روغن جوش کسی حد تک اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ایک دکاندار نے بتایا کہ خراب گوشت کی خبروں کے بعد لوگوں نے رِستہ، کباب اور میتھ مازمانگنا تقریباً بند کر دیا، جس کے باعث انہیں یہ پکوان تیار کرنا ہی چھوڑنا پڑا۔ ان کے مطابق کاروبار میں ابتدائی طور پر نمایاں مندی آئی، تاہم اب سبزی خور کھانوں کی بڑھتی طلب کی بدولت حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابقبتہ گلی صرف ایک بازار نہیں بلکہ سری نگر کی تہذیبی اور عوامی تاریخ کا ایک زندہ باب ہے۔ 1960 کی دہائی میں قائم ہونے والی یہ فوڈ اسٹریٹ دہائیوں سے کم آمدنی والے مزدوروں، طلبہ، دفتری ملازمین اور دور دراز علاقوں سے آنے والے مسافروں کے لیے سستے، معیاری اور روایتی کشمیری کھانوں کا قابلِ اعتماد مرکز رہی ہے۔ یہاں آج بھی چند درجن چھوٹے کھانے کے مراکز موجود ہیں، جہاں ایک سبزی خور تھالی نہایت مناسب قیمت پر دستیاب ہوتی ہے، جبکہ گوشت پر مشتمل کھانے بھی نسبتاً کم نرخوں پر فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ ان کے خاندانوں کی تین تین نسلیں اسی فوڈ اسٹریٹ سے وابستہ رہی ہیں۔ ایک بزرگ دکاندار کے مطابق وہ بچپن میں اپنے والد کے ساتھ یہاں آیا کرتے تھے اور آج بھی اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بَٹہ گلی صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ شہر کی ایک ثقافتی شناخت ہے، جس نے نصف صدی سے زائد عرصے تک عام لوگوں کے ذائقے اور ضرورت دونوں کو پورا کیا ہے۔تاہم اس تاریخی بازار کو صرف خوراک کے بدلتے رجحانات ہی نہیں بلکہ معاشی اور شہری منصوبہ بندی سے جڑے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ گزشتہ برسوں میں شہر کے مرکزی بس اڈوں کی منتقلی، ٹریفک پابندیوں اور بنیادی ڈھانچے کی عدم توجہی کے باعث یہاں گاہکوں کی آمد میں نمایاں کمی آئی، جس کے نتیجے میں متعدد دکاندار اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوئے۔ دکانداروں کے مطابق اگرچہ وہ بلدیہ کو کرایہ ادا کرتے ہیں، لیکن صفائی اور مرمت کے اخراجات انہیں خود برداشت کرنا پڑتے ہیں، جبکہ 2014 کے تباہ کن سیلاب کے بعد سے مناسب تزئین و آرائش بھی نہیں کی گئی۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سبزی اور دال پر مشتمل کھانے نسبتاً محفوظ محسوس ہوتے ہیں، جبکہ بعض افراد کا ماننا ہے کہ گوشت سے دوری ایک عارضی رجحان ہے اور عوامی اعتماد بحال ہونے کے بعد روایتی کشمیری گوشت پکوان دوبارہ اپنی جگہ حاصل کر سکتے ہیں۔فی الحال بتہ گلی ایک ایسے ثقافتی اور معاشی موڑ پر کھڑی ہے جہاں روایت اور تبدیلی ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ کبھی گوشت خوروں کی جنت سمجھی جانے والی یہ تاریخی فوڈ اسٹریٹ آج سادگی، کفایت اور عوامی اعتماد کی نئی تعریف بن چکی ہے، مگر اس کے دکاندار اب بھی امید رکھتے ہیں کہ حکومتی توجہ، بہتر بنیادی ڈھانچے اور عوامی اعتماد کی بحالی سے یہ جگہ ایک بار پھر اپنے ماضی کی رونقیں حاصل کر سکے گی۔