ایل جی منوج سنہا کی قیادت میں منشیات مخالف مہم جاری رکھنے کا عزم// ڈائریکٹر جنرل پولیس
سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس پاکستان کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کے خلاف مسلسل لڑ رہی ہے اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں منشیات مخالف مہم کو بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس ہر مشکل صورتحال میں ثابت قدم رہتے ہوئے قوم کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق سرینگر کے زیون علاقے میں واقع آرمڈ پولیس کمپلیکس میں نئے بھرتی ہونے والے کانسٹیبلز کو تقرری نامے فراہم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نالین پربھات نے نوجوانوں کو پولیس فورس میں شمولیت پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پولیس کی وردی صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ نظم و ضبط، ایمانداری، وفاداری، بہادری، قربانی اور قومی خدمت کی علامت ہے۔ڈی جی پی نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس کو بیک وقت دہشت گردی، منظم جرائم، منشیات کے پھیلاؤ اور امن و قانون سے متعلق مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورس نہ صرف دہشت گردی کے خلاف صف اول میں لڑ رہی ہے بلکہ قدرتی آفات، ہنگامی حالات، یاترا اور سیاحتی سرگرمیوں کے دوران بھی عوامی خدمت میں پیش پیش رہتی ہے۔نالین پربھات نے بتایا کہ حالیہ بھرتی مہم کے تحت تقریباً 4 ہزار نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا ہے جن میں 600 سے زائد خواتین شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر پولیس کی سب سے بڑی بھرتی مہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اسامیوں کا اشتہار 2014 میں جاری کیا گیا تھا اور 5.5 لاکھ سے زائد امیدواروں نے درخواستیں دی تھیں، جو نوجوانوں کی پولیس فورس میں شمولیت کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں امن، استحکام اور ترقی کے بہتر ماحول کے باعث نوجوان قومی دھارے سے جڑنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ڈی جی پی کے مطابق منوج سنہا کی قیادت میں جموں و کشمیر میں امن و ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ڈی جی پی نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس میں کانسٹیبلز کی منظور شدہ تعداد تقریباً 53 ہزار ہے جبکہ اس وقت 40 ہزار سے کچھ زیادہ اہلکار تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے 4 ہزار اہلکاروں کی شمولیت سے فورس میں خالی آسامیوں میں نمایاں کمی آئے گی اور آپریشنل صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نئے بھرتی ہونے والے اہلکار پہاڑی، جنگلاتی اور دور دراز علاقوں میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں ’’فورس ملٹی پلائر‘‘ کا کردار ادا کریں گے۔ ڈی جی پی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مزید 6484 کانسٹیبلز کی بھرتی کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے۔نالین پربھات نے بتایا کہ منتخب امیدواروں میں گریجویٹس، پوسٹ گریجویٹس، بی ٹیک اور ایم ٹیک ڈگری ہولڈرز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو جدید پولیسنگ اور خصوصی شعبوں میں استعمال کیا جائے گا تاکہ فورس کو مزید ٹیکنالوجی پر مبنی اور مؤثر بنایا جا سکے۔ڈی جی پی نے جموں و کشمیر پولیس کو ’’ٹیکنالوجی سے لیس اور عوام دوست فورس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی فورس میں شمولیت ان کے جذبہ حب الوطنی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے اہلکاروں کو جسمانی تربیت، ذہنی مضبوطی، جنگلاتی جنگی مہارت، جدید پولیسنگ اور نئی قانونی دفعات سے متعلق خصوصی تربیت دی جائے گی۔انہوں نے نوجوان اہلکاروں کو اسنو لیپرڈز، مارخور اور اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) جیسی ایلیٹ یونٹس میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ان یونٹس میں جدید تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جسمانی فٹنس کے ساتھ ذہنی مضبوطی بھی انتہائی ضروری ہے کیونکہ مشکل حالات میں انسان کا ذہن ہی سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔نالین پربھات نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس کے 1620 اہلکار ملک کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فورس کی سنہری روایت ہے اور نئے اہلکار اسی عظیم ورثے کے امین ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی، جرائم اور منشیات کے خلاف جنگ میں پولیس کو مزید مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ڈی جی پی نے اہلکاروں کو عوام کے ساتھ خوش اخلاقی اور باہمی احترام کے ساتھ پیش آنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پولیسنگ میں عوامی اعتماد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منوج سنہا کی جانب سے شروع کی گئی ’’ڈرگ فری جموں و کشمیر‘‘ مہم میں پولیس بھرپور کردار ادا کر رہی ہے اور نوجوان اہلکاروں کو بھی سماج کا اعتماد جیتنے کے لیے ایمانداری اور انصاف کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔تقریب کے اختتام پر نالین پربھات نے نئے بھرتی ہونے والے اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار اب عام شہری نہیں رہے بلکہ وہ ایک ایسی فورس کا حصہ بن چکے ہیں جو فخر کے ساتھ وردی پہنتی ہے اور عاجزی کے ساتھ قوم کی خدمت انجام دیتی ہے۔










