پاکستان میں کوئی بھی دہشت گرد پناہ گاہ محفوظ نہیں

پاکستان میں کوئی بھی دہشت گرد پناہ گاہ محفوظ نہیں

آپریشن سندور جدید ملٹی ڈومین جنگی حکمتِ عملی کی مثال قرار// ڈی جی فلٹری آپریشنز

سرینگر//یو این ایس// بھارتی فوج نے آپریشن سندور کی پہلی برسی کے موقع پر کہا ہے کہ اس کارروائی نے یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان میں موجود کوئی بھی دہشت گرد پناہ گاہ اب محفوظ نہیں رہی، جبکہ یہ آپریشن صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف بھارت کی نئی حکمتِ عملی کا آغاز تھا۔راجستھان کے شہر جے پور میں جمعرات کو بھارتی فضائیہ، بحریہ اور بری فوج کے اعلیٰ فوجی حکام نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آپریشن سندور کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ حکام نے اس کارروائی کو گزشتہ پچاس برسوں میں بھارت کی سب سے بڑی اور وسیع جنگی مہم قرار دیا، جس کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کو سزا دینا تھا۔یو این ایس کے مطابق بھارتی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز راجیو گھئی نے کہا کہ آپریشن سندور کسی انجام کا نام نہیں بلکہ یہ ایک نئی شروعات تھی۔انہوں نے کہا،’’آپریشن سندور نے یہ ثابت کیا کہ بھارت اب اپنی پرانی حکمتِ عملی سے آگے بڑھ چکا ہے اور لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے پار موجود دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو براہِ راست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘لیفٹیننٹ جنرل گھئی کے مطابق یہ کارروائی بھارت کے عزم، ذمہ داری اور اسٹریٹجک تحمل کا واضح اظہار تھی، جسے نہایت درستگی، متوازن انداز اور واضح مقصد کے ساتھ انجام دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام فیصلہ کن، پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ انداز میں جاری رکھے گا۔فوجی حکام کے مطابق آپریشن سندور ایک پیچیدہ اور ملٹی ڈومین جنگی مہم تھی، جس کی منصوبہ بندی، عمل درآمد اور تکمیل انتہائی مختصر وقت میں کی گئی۔ اس کارروائی میں فضائی طاقت، میزائل نظام، ڈرون ٹیکنالوجی، توپ خانے اور انٹیلی جنس معلومات کا مربوط استعمال کیا گیا۔بھارتی فضائیہ کے اْس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ایئر آپریشنز اے کے بھارتی نے کہا کہ آپریشن سندور نے جدید جنگ میں فضائی طاقت کی اہمیت اور برتری کو دوبارہ ثابت کیا۔واضح رہے کہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں 26 افراد، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے، ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت نے 7 مئی 2025 کو ’’آپریشن سندور‘‘ شروع کیا، جس کے دوران پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود نو مبینہ دہشت گرد مراکز کو فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کارروائی کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا اور پاکستان کی جانب سے جوابی حملوں کی کوششیں بھی کی گئیں، تاہم بھارتی فوج نے ان میں سے بیشتر کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔بعد ازاں 10 مئی کو دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطے کے بعد فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔