آپریشن سندور کے ایک سال بعد،سرحدی دیہات بانڈی اور سیماری میں زندگی معمول پر لوٹنے لگی

آپریشن سندور کے ایک سال بعد،سرحدی دیہات بانڈی اور سیماری میں زندگی معمول پر لوٹنے لگی

گولہ باری کے زخم آج بھی باقی، حوصلے بلند،متاثرہ خاندان گھروں کو سنوارنے میں مصروف

سرینگر/یو این ایس//آپریشن سندور کے دوران ایک سال قبل ہونے والی شدید سرحدی گولہ باری سے متاثر شمالی کشمیر کے سرحدی دیہات بانڈی اور سیماری میں اگرچہ آج بھی تباہی کے نشانات نمایاں ہیں، تاہم مقامی آبادی آہستہ آہستہ معمولاتِ زندگی کی طرف واپس لوٹ رہی ہے۔ عوامی تعاون، سرکاری امداد اور فوج کی مدد سے متاثرہ خاندان دوبارہ اپنے گھروں اور زندگیوں کو سنوارنے میں مصروف ہیں۔ضلع بارہمولہ کے اْڑی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے تقریباً 23 کلومیٹر دور واقع بانڈی گاؤں گزشتہ برس آپریشن سندور کے دوران شدید گولہ باری سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل تھا۔ مارٹر گولوں اور توپ خانے کی شیلنگ سے کئی مکانات تباہ ہوئے جبکہ لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرنا پڑی۔یو این ایس کے مطابق اگرچہ ایک سال گزر چکا ہے، لیکن گاؤں کے کئی گھروں کی دیواروں اور چھتوں پر آج بھی گولہ باری کے نشانات موجود ہیں، جو اْس خوفناک دور کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ متاثرین میں محمد اشرف شیخ اور محمد انور شیخ نامی دو بھائی بھی شامل تھے، جن کے مکانات کو شدید نقصان پہنچا تھا۔محمد اشرف شیخ نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد انتظامیہ نے بروقت مدد فراہم کی، جس سے متاثرہ خاندانوں کو بحالی میں آسانی ہوئی۔انہوں نے کہا، ’’انتظامیہ نے مشکل وقت میں مالی امداد فراہم کی، جس کے بعد ہم نے چھتوں کی مرمت کی اور تباہ شدہ حصوں کو دوبارہ تعمیر کیا۔ اب زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی ہے۔‘‘مقامی لوگوں کے مطابق گولہ باری کے بعد سرکاری افسران مسلسل علاقے کا دورہ کرتے رہے اور متاثرین تک معاوضہ اور امداد بروقت پہنچائی گئی۔دیہاتیوں نے بھارتی فوج کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ شیلنگ کے دوران فوج نے شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں امدادی سرگرمیوں میں بھی مسلسل تعاون جاری رکھا۔اشرف شیخ کی بیٹی اور بارہویں جماعت کی طالبہ نگہت آراء نے کہا، ’’اْس رات ہم شدید خوف میں مبتلا تھے اور پوری رات جاگتے رہے، لیکن بعد میں جب حکام اور دیگر لوگ مدد کے لیے پہنچے تو ہمیں احساس ہوا کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔‘‘اسی طرح محمد انور شیخ کی بیٹی تمنّا نے بتایا کہ مسلسل سرکاری تعاون کی وجہ سے گاؤں میں دوبارہ استحکام پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہا، ’’اب زندگی دوبارہ معمول پر آ چکی ہے۔ بچے اسکول جا رہے ہیں اور لوگ اپنے مستقبل اور روزگار پر توجہ دے رہے ہیں۔‘‘یو این ایس کے مطابق ادھر ٹنگڈار سیکٹر کے سرحدی گاؤں سیماری میں بھی آپریشن سندور کی یادیں آج تک لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ دریائے کرشن گنگا کے کنارے واقع یہ گاؤں ایک جانب بھارت جبکہ دوسری جانب پاکستان زیر انتظام کشمیر سے جڑا ہوا ہے۔ گزشتہ برس 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب اسی علاقے سے بھارتی فوج نے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔تقریباً 500 آبادی اور 80 مکانات پر مشتمل یہ گاؤں آج بظاہر پْرسکون دکھائی دیتا ہے، تاہم مقامی لوگوں کے دلوں میں اْس رات کی دہشت اب بھی موجود ہے۔مقامی شہری غلام قادر نے بتایا، ’’ہم نے صرف جنگ کی خبریں نہیں سنیں بلکہ اپنے سروں کے اوپر گرتے گولوں کو محسوس کیا۔ کئی دن تک کمیونٹی بنکر ہی ہمارا گھر بنے رہے۔‘‘انہوں نے فخر کے ساتھ بتایا کہ سیماری کے مڈل اسکول کو ’’پولنگ بوتھ نمبر ایک‘‘ کا درجہ حاصل ہے اور اسکول کے باہر ایک نعرہ درج ہے: ’’جمہوریت یہیں سے شروع ہوتی ہے۔‘‘مقامی باشندوں کے مطابق ڈرون حملوں کا خوف شیلنگ سے بھی زیادہ تھا، کیونکہ کئی مشتبہ ڈرون گاؤں کے قریب گرے جنہیں فوج نے ناکارہ بنایا۔شدید مشکلات اور خوف کے باوجود بانڈی اور سیماری کے عوام اب امن اور محفوظ مستقبل کی امید کے ساتھ اپنی زندگیوں کو دوبارہ استوار کرنے میں مصروف ہیں۔ کسان دوبارہ کھیتوں میں لوٹ آئے ہیں، اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں اور سماجی زندگی بھی آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی ہے۔مقامی بزرگوں کا کہنا ہے کہ اس بحران نے عوام، انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز کے درمیان اعتماد اور یکجہتی کو مزید مضبوط کیا۔ لوگوں کی سب سے بڑی خواہش اب یہی ہے کہ سرحدوں پر امن قائم رہے تاکہ آنے والی نسلوں کو دوبارہ ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔