معالجین نے قرار دیا موسمی اور ہلکی نوعیت کی بیماری، احتیاطی تدابیر پر زور
سرینگر//یو این ایس//سرینگر میں کم عمر بچوں، خصوصاً کنڈرگارٹن کے طلبہ میںہاتھ،پائوں اور منہ ( ہینڈ، فٹ اینڈ ماؤتھ) بیماری کے کیسوںمیں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس کے باعث والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم ایک اسکول کو بچوں میں بیماری کے پھیلاؤ کے پیش نظر ایک ہفتے کیلئے بند کرنا پڑا، جبکہ دیگر تعلیمی اداروں میں بھی متعدد کیس سامنے آئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق متاثرہ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے، جس کے پیش نظر کچھ اسکولوں نے عارضی طور پر تعطیلات کا اعلان کیا، جبکہ بعض اداروں نے بیمار بچوں کو گھر پر رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔طبی ماہرین نے تاہم اس صورتحال کو ‘‘موسمی اور نسبتاً ہلکی نوعیت’’ کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سے چھ برسوں سے ہر موسم بہار میں اس بیماری کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ پروفیسر پرویز احمد، سربراہ شعبہ اطفال، جی ایم سی سرینگر کے مطابق یہ کوئی بڑی تشویشناک بیماری نہیں، تاہم احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وائرس عام طور پر قریبی رابطے اور صفائی کی کمی کے باعث پھیلتا ہے، خاص طور پر ایسے مقامات پر جہاں بچے ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں، جیسے اسکول اور ڈے کیئر سینٹرز۔ ان کے مطابق اسکولوں کی بندش مستقل حل نہیں، بلکہ متاثرہ بچوں کو چند دنوں کیلئے گھر پر رکھنا زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔ماہرین کے مطابق ہینڈ، فٹ اینڈ ماؤتھ بیماری ایک وائرل انفیکشن ہے جو زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے، تاہم بڑے بچوں میں بھی یہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی علامات میں بخار، سستی، گلے میں درد اور منہ، ہاتھوں اور پیروں پر چھالوں جیسے دانے شامل ہیں۔ بعض اوقات جسم کے دیگر حصے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس بیماری کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، تاہم علامات عام طور پر 5 سے 7 دن میں خود ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ بخار یا درد کی صورت میں عام ادویات جیسے پیراسیٹامول یا آئبوپروفین استعمال کی جا سکتی ہیں۔ماہرین نے والدین کو تاکید کی ہے کہ وہ بچوں میں صفائی کا خاص خیال رکھیں، بار بار ہاتھ دھونے کی عادت ڈالیں، کھانسی یا چھینک کے دوران منہ ڈھانپیں اور بیمار بچوں کو دوسروں سے دور رکھیں۔ اس کے علاوہ اسکولوں اور گھروں میں استعمال ہونے والی اشیاء جیسے دروازوں کے ہینڈل، میزیں اور کھلونے باقاعدگی سے صاف اور جراثیم سے پاک کیے جائیں۔صحت ماہرین کے مطابق بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس بیماری کے پھیلاؤ کو کافی حد تک روکا جا سکتا ہے، جبکہ والدین اور اسکول انتظامیہ کے درمیان بہتر ہم آہنگی اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔










