سری نگر میں منشیات فروشوں کی2 کروڑ روپے کی جائیدادیں ضبط

سری نگر میں منشیات فروشوں کی2 کروڑ روپے کی جائیدادیں ضبط

دیوسرکولگام میںمنشیات ملزم کے قبضے سے 5 کنال 12 مرلہ زمین بازیاب

سرینگر//یو این ایس// ’’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے تحت منشیات فروشوں کے خلاف جاری سخت مہم کے دوران سری نگر پولیس نے جمعرات کو دو بدنام زمانہ منشیات فروشوں کی دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لیں۔پولیس کے مطابق یہ کارروائیاں سری نگر کے چنہ پورہ اور قمر واری علاقوں میں انجام دی گئیں، جہاں منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل کی گئی جائیدادوں کو این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت قرق کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق پہلی کارروائی میں پولیس اسٹیشن چنہ پورہ نے حافظ شبیر ڈارولد شبیر احمد ڈار ساکن بڈشاہ نگر چنہ پورہ کی تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کی دو منزلہ رہائشی عمارت بمعہ اٹاری ضبط کی۔ملزم ایف آئی آر نمبر 01/2024 میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/20 کے تحت مطلوب ہے، جو پولیس اسٹیشن چنہ پورہ میں درج ہے۔پولیس حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ مذکورہ جائیداد منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل شدہ آمدنی کے ذریعے تعمیر کی گئی تھی، جس کے بعد این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-F کے تحت اسے ضبط کیا گیا۔حکام نے بتایا کہ ضبطی کی کارروائی مکمل قانونی طریقہ کار کے مطابق آزاد گواہوں کی موجودگی میں انجام دی گئی۔ ضبطی حکم نامے کے مطابق جائیداد کے مالک کو اس پراپرٹی کو فروخت، لیز یا کسی تیسرے فریق کے نام منتقل کرنے سے روک دیا گیا ہے۔دوسری اہم کارروائی میں پولیس پوسٹ قمر واری نے بدنام زمانہ منشیات فروش باسط احمد باباالمعروف ’’آئیکن‘‘ ولد محمد یوسف بابا ساکن برتھنہ قمر واری کی دو منزلہ رہائشی عمارت ضبط کی۔پولیس کے مطابق یہ جائیداد خسرہ نمبر 100 کے تحت درج ہے اور اس کی مالیت ایک کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ جائیداد قانونی طور پر اس کے والد محمد یوسف بابا کے نام درج ہے، تاہم تحقیقات میں اسے منشیات کی غیر قانونی تجارت سے منسلک پایا گیا۔پولیس نے کہا کہ یہ کارروائیاں سری نگر پولیس کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد منشیات فروشوں کے مالیاتی نیٹ ورک کو تباہ کرنا اور غیر قانونی تجارت سے حاصل اثاثوں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے۔سری نگر پولیس نے واضح کیا کہ منشیات کی لعنت اور اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے نہ صرف ملزمان بلکہ ان کی غیر قانونی کمائی سے حاصل جائیدادوں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ منشیات فروشی اور نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق معلومات فراہم کرکے ایک محفوظ اور منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل میں تعاون کریں۔یو این ایس کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کوگام کے دیوسر علاقے میں منشیات کے خلاف جاری مہم کے تحت کوگام پولیس نے محکمہ مال کے اشتراک سے ایک مبینہ منشیات فروش کے قبضے سے قریب ایک کروڑ روپے مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق سرکاری حکام کے مطابق مالوان گاؤں میں واقع 5 کنال اور 12 مرلہ اراضی، جو خاصرہ نمبر 697 من میں درج ہے، شاہزاد احمد پڈر ولد گل محمد پڈر کے غیر قانونی قبضے میں تھی۔ مذکورہ شخص پولیس اسٹیشن دیوسر میں درج ایف آئی آر نمبر 40/2020 کے تحت این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/20 میں ملوث بتایا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ واگزار کرائی گئی زمین میں باغات شامل ہیں اور اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً ایک کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ یہ کارروائی کلگام پولیس اور محکمہ مال نے مشترکہ طور پر انجام دی، جس کا مقصد منشیات کے کاروبار سے وابستہ غیر قانونی نیٹ ورک اور مالی ڈھانچے کو ختم کرنا ہے۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کوگام، عنایت علی چودھری نے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی اور منشیات کے دھندے سے جڑی غیر قانونی جائیدادوں، تجاوزات اور جرائم سے حاصل اثاثوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ منشیات فروشی یا غیر قانونی تجاوزات سے متعلق معلومات پولیس کے ساتھ شیئر کریں۔ پولیس نے یقین دلایا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔