کانگریس کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرنا مناسب نہیں//غلام احمد میر
سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر میں حکمراں اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کے درمیان کانگریس کے سینئر رہنما اور ڈورو شاہ آباد سے رکن اسمبلی غلام احمد میرنے نیشنل کانفرنس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی اتحادی جماعت کانگریس کے خدشات، خواہشات اور سیاسی موقف کا مکمل احترام کرے اور اہم معاملات میں اسے اعتماد میں لیا جائے۔جمعرات کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے غلام احمد میر نے کہا کہ عوامی اور سیاسی اہمیت کے تمام معاملات میں نیشنل کانفرنس کو کانگریس کے ساتھ بہتر رابطہ اور مشاورت برقرار رکھنی چاہیے تاکہ اتحاد مضبوط اور مؤثر انداز میں کام کر سکے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومتوں میں باہمی احترام، مشاورت اور ہم آہنگی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ اسی کے ذریعے بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔غلام احمد میر نے کہا،’’نیشنل کانفرنس اپنے اتحادی کی آواز کو نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اتحاد کو فعال اور بامعنی بنانے کے لیے ہماری خواہشات اور خدشات کا مکمل احترام ضروری ہے۔‘‘جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر نیشنل کانفرنس مستقبل میں بھی کانگریس کو نظر انداز کرتی رہی تو اس کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، تو انہوں نے کسی قسم کا براہِ راست الٹی میٹم دینے سے گریز کیا، تاہم اتنا ضرور کہا کہ جب اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا تو اس کا اثر حکمرانی اور عوامی مفاد پر پڑتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق غلام احمد میر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کانگریس حلقوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کئی اہم فیصلے یکطرفہ طور پر کر رہی ہے اور اتحادی جماعت سے مناسب مشاورت نہیں کی جا رہی۔ذرائع کے مطابق بعض کانگریسی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ حکومت کے اہم پالیسی فیصلوں اور انتظامی معاملات میں کانگریس کو خاطر خواہ نمائندگی اور مشاورت کا موقع نہیں دیا جا رہا، جس سے اتحاد کے اندر بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔اگرچہ دونوں جماعتوں نے اب تک اتحاد برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں غلام احمد میر کے حالیہ بیان کو اتحاد کے اندر موجود اختلافات کی ایک اہم علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔










