loc

لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر ہائی الرٹ برقرار

آپریشن سندور کی برسی پر فوج اور بی ایس ایف مکمل چوکسی کے ساتھ تعینات

سری نگر//آپریشن سندور کی پہلی برسی کے موقع پر جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد (آئی بی) کے مختلف سیکٹروں میں بھارتی فوج اور بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) نے ہائی الرٹ برقرار رکھا ہوا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی سرحدی علاقوں میں مکمل چوکسی اختیار کی گئی ہے اور فوجی تیاریوں میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا رہی۔ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے بتایا کہ موجودہ بھارت۔پاکستان کشیدگی اور آپریشن سندور کی برسی کے پیش نظر سیکورٹی گرڈ کو پوری طرح متحرک رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا،’’فوجی دستے ایل او سی پر مکمل غلبہ برقرار رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘یو این ایس کے مطابق حکام کے مطابق شمالی کشمیر کے حساس سیکٹروں جن میں گریز، اْوڑی، کرناہ اور ٹنگڈھار شامل ہیں، کے علاوہ جموں خطے کے متعدد اگلے مورچوں پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔بین الاقوامی سرحد پر بی ایس ایف اہلکار جدید الیکٹرانک نگرانی کے نظام کے ساتھ چوبیس گھنٹے گشت کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت پر فوری نظر رکھی جا سکے۔سرکاری ذرائع کے مطابق سرحدی نگرانی کے نظام کو جدید اور بڑی حد تک مقامی ٹیکنالوجی سے مضبوط بنایا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ فینسنگ سسٹمز کو ’’اویکشَن‘‘ سافٹ ویئر کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جس کے ذریعے حساس علاقوں میں نقل و حرکت کی فوری شناخت اور نگرانی ممکن بنائی جا رہی ہے۔اسی طرح ’’ٹیکٹیکل ایڈوانسڈ انٹیگریٹڈ ویپن سسٹم‘‘ کے ذریعے خودکار نگرانی اور خطرات کا فوری تجزیہ کیا جا رہا ہے۔مشکل اور برفانی علاقوں میں فوجیوں کی مدد کے لیے روبوٹک ’’میول‘‘ پلیٹ فارمز بھی تعینات کیے گئے ہیں، جو دشوار گزار علاقوں میں سامان اور آلات کی نقل و حمل میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔حکام کے مطابق اینٹی ڈرون گنز، جیمنگ سسٹمز اور نائٹ وڑن کیمروں سے لیس نگرانی ڈرونز کے ذریعے سرحدی علاقوں کی چوبیس گھنٹے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ایک فوجی افسر نے کہا،’’اب ٹیکنالوجی سرحدی دفاع میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ اے آئی پر مبنی نگرانی سے لے کر ڈرون سرویلنس تک، ہمارا مقصد دراندازی کو مکمل طور پر روکنا اور ہر صورتحال پر فوری ردعمل دینا ہے۔‘‘فوجی ذرائع کے مطابق سرحدی علاقوں میں فوجی مشقیں بھی مسلسل جاری ہیں، جن میں دراندازی کی کوششوں، بنکروں پر حملوں اور مربوط دفاعی کارروائیوں کی مشق شامل ہے تاکہ فوجی اہلکار ہر وقت مکمل تیار رہیں۔پہاڑی علاقوں میں فوجیوں کی تیز رفتار نقل و حرکت کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں اور آل ٹیرین موبیلیٹی پلیٹ فارمز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔حکام نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں شہریوں کی حفاظت بھی ترجیحات میں شامل ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مقامی انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کا مؤثر نظام قائم کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ’’آپریشن سندور‘‘ گزشتہ سال 7 اور 8 مئی کی درمیانی شب پہلگام دہشت گرد حملے کے ردعمل میں شروع کیا گیا تھا، جس میں 26 عام شہری، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے، ہلاک ہوگئے تھے۔اس کارروائی کے دوران پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود متعدد مبینہ دہشت گرد تربیتی مراکز اور انفراسٹرکچر کو میزائل، فضائی طاقت، ڈرونز اور توپ خانے کے مربوط استعمال سے نشانہ بنایا گیا تھا۔بھارتی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا واضح پیغام دینا تھا جبکہ شہری نقصان کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان محدود فضائی جھڑپیں اور سرحد پار گولہ باری بھی ہوئی تھی، تاہم 10 مئی کے آس پاس جنگ بندی سے متعلق مفاہمت کے بعد صورتحال نسبتاً معمول پر آ گئی تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور سے حاصل ہونے والے تجربات اب بھی سرحدی دفاعی حکمتِ عملی اور فوجی تیاریوں کی بنیاد بنے ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں بھی یہی ہائی الرٹ برقرار رکھا جائے گا۔