Grand launch of 'Deedaras Praran Chhs', ceremony at Inox Srinagar

8ویں جماعت کے گلوکار کی صوفیانہ پیشکش ریلیز

’’دیداراس پرارن چھْس‘‘کی شاندار لانچ، انوکس سرینگر میں تقریب

سرینگر//یو این ایس//شمالی کشمیر کے ٹنگمرگ کے علاقے کنزر سے تعلق رکھنے والے ایک کمسن گلوکار نے کشمیری موسیقی کی دنیا میں اپنی باقاعدہ انٹری دیتے ہوئے اپنی صوفیانہ گیت ’دیداراس پرانن چھْس ‘کو اناکس سرینگرمیں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران ریلیز کیا۔ اس موقع پر مقامی فنکاروں، موسیقی کے شائقین اور معزز شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔یو این ایس کے مطابق یہ روحانی رنگ لیے کشمیری فوک گیت معروف شاعر شیخ شعبان کا تحریر کردہ ہے، جو خطے کی صوفی روایت، عقیدت اور باطنی بیداری کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس گیت کو پہلے رشید جہانگیر نے پیش کیا تھا، تاہم اب اسے ابھرتے ہوئے نوجوان فنکار ریحان فاروق نے نئے انداز میں پیش کیا ہے، جبکہ اس میں آواز مہریں ملک کی شامل ہے۔گیت کی ہدایت کاری اور پروڈکشن عمر نثار نے انجام دی ہے، جن کے مطابق اس نئے وریژن میں اصل تخلیق کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے جدید موسیقی کے انداز سے ہم آہنگ کیا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا جا سکے۔میوزک ویڈیو میں ایک نوجوان کے خواب، محنت اور خود شناسی کے سفر کو دکھایا گیا ہے، جو اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہوئے ایک منفرد شناخت حاصل کرتا ہے۔ ریلیز تقریب کے دوران ریحان فاروق اور مہریں ملک نے لائیو پرفارمنس پیش کی، جبکہ دیگر مقامی فنکاروں راسخ بٹ اور مہمیت سید نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر کے حاضرین کو محظوظ کیا۔ریحان فاروق، جو کہ آٹھویں جماعت کے طالب علم ہیں، پہلے بھی اسکول تقریبات میں اپنی آواز کا جادو جگا چکے ہیں۔ ان کے والد فاروق احمد کے مطابق ریحان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا موقع ملا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ’ایس کے آئی سی سی‘میں بھی ریحان نے معروف گلوکار گلزار احمد گنائی کے ساتھ پرفارم کیا تھا، جس کے بعد ان کے ٹیلنٹ کو مزید پہچان ملی۔تقریب میں وجے دھر، احسان پردیسی اور اکشے لبرو سمیت کئی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے نوجوان فنکار کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کشمیر ٹیلنٹ سے مالا مال ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے فنکاروں کو مناسب رہنمائی اور پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کشمیری زبان اور موسیقی کو فروغ دینے کیلئے تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کو آگے آنا ہوگا، تاکہ نئی نسل اپنی ثقافت اور زبان سے جڑی رہے۔یہ ریلیز نہ صرف ایک نوجوان فنکار کے سفر کا آغاز ہے بلکہ کشمیر کی صوفیانہ موسیقی اور ثقافتی ورثے کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک مثبت کوشش بھی قرار دی جا رہی ہے۔