پولیس میں بھرتی کا جھانسہ دے کر لوگوں سے رقم وصول کرنے کا الزام
سرینگر//یو این ایس// جنوبی کشمیر کے ترال علاقے میں ایک اسپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) کے خلاف مبینہ نوکری فراڈ معاملے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے پولیس محکمہ میں ایس پی او کی تقرری دلانے کے نام پر متعدد افراد سے رقم وصول کی۔پولیس اسٹیشن ترال میں درج ایف آئی آر نمبر 54/2026 کے تحت اندر پال سنگھ ولد سورج سنگھ ساکن سیموہ ترال کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 318(4) کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔یو این ایس کے مطابق پولیس کے مطابق شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ ملزم نے پولیس محکمہ میں سرکاری تقرری دلانے کا جھانسہ دے کر اس سے رقم وصول کی اور یقین دلایا کہ یہ رقم بھرتی کے عمل کو ممکن بنانے کے لیے درکار ہے۔ تاہم رقم وصول کرنے کے باوجود نہ تو کوئی تقرری عمل میں لائی گئی اور نہ ہی رقم واپس کی گئی، حالانکہ کئی مرتبہ مطالبہ کیا گیا تھا۔شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم نے نہ صرف شکایت کنندہ بلکہ کئی دیگر افراد کو بھی تقرری سے متعلق جعلی اور فرضی دستاویزات فراہم کیں، جس سے ایک بڑے دھوکہ دہی نیٹ ورک کا شبہ پیدا ہو گیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے متعدد افراد سے پولیس میں ایس پی او بھرتی کے وعدے پر بھاری رقم وصول کی ہو سکتی ہے۔پولیس حکام کے مطابق معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملزم کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔دریں اثنا پولیس نے عوام کے نام ایک مشاورتی پیغام جاری کرتے ہوئے سرکاری نوکریوں کے نام پر ہونے والی دھوکہ دہی سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔پولیس نے واضح کیا کہ محکمہ پولیس میں بھرتی یا تقرری کا عمل مکمل طور پر سرکاری اور قانونی طریقہ کار کے تحت انجام دیا جاتا ہے اور اس میں کسی قسم کی رقم، سفارش یا درمیانی شخص کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔عوام سے کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کی جانب سے سرکاری نوکری دلانے کے نام پر رقم یا دیگر فوائد طلب کیے جائیں تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے تاکہ بروقت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔










