بھارت اور فرانس کے درمیان خلائی اور جدید ٹیکنالوجی تعاون میں توسیع پر اتفاق

بھارت اور فرانس کے درمیان خلائی اور جدید ٹیکنالوجی تعاون میں توسیع پر اتفاق

ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور فرانسیسی وزیر فلپ بپٹسٹ کے درمیان اہم دو طرفہ ملاقات

سرینگر//یو این ایس//بھارت اور فرانس نے خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جدید مواد، اطلاقی ریاضی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھاور فرانس کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور خلائی امور فلپ بپٹسٹ کے درمیان ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہونے والی دو طرفہ ملاقات کے دوران سامنے آیا۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی اور خلائی شعبوں میں جاری تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے روڈ میپ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اور فرانس کے درمیان سائنس اور خلائی تعاون اب دو طرفہ تعلقات کا ایک مضبوط ستون بن چکا ہے، جو نہ صرف تکنیکی ترقی بلکہ عوامی سطح پر روابط کو بھی فروغ دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2026 کو ’’انڈو،فرینچ ایئر آف انوویشن‘‘ قرار دینا دونوں ممالک کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جدید تحقیق کے شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا ایک اہم موقع ہوگا۔مرکزی وزیر نے بتایا کہ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی اور فرانس کے ممتاز اداروں کے درمیان شراکت داریوں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، جن میں جدید مواد، ڈیجیٹل سائنس، اطلاقی ریاضی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں نئے منصوبے شامل ہیں۔خلائی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے طویل تعاون کی تاریخ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مشترکہ سیٹلائٹ مشنز ’’میگھا ٹراپیکس‘‘، ’’سارل‘‘ اور جاری ’’ترشنا‘‘ منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک خلائی تحقیق میں مسلسل ایک دوسرے کے اہم شراکت دار رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ فرانس میں ’’ناوک‘‘ گراؤنڈ اسٹیشن کی ترقی اور بھارت کے ’’گگن یان‘‘ مشن میں فرانس کی حمایت بھی دو طرفہ تعلقات کی اہم مثالیں ہیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حالیہ اصلاحات کے بعد بھارت کے خلائی شعبے میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے اور اس وقت تقریباً 400 خلائی اسٹارٹ اپس ایک مضبوط خلائی معیشت کی بنیاد بن رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی سطح پر شراکت داری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔فرانسیسی وزیر فلپ بپٹسٹ نے بھارت کو خلائی اور تحقیقی تعاون میں ایک قابل اعتماد اور اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک مضبوط اور کامیاب روایت موجود ہے۔انہوں نے زمین کے مشاہداتی نظام، لانچ سسٹمز اور خلائی تحقیق میں مزید تعاون کی خواہش ظاہر کی اور ’’اسپیس فار اوشن الائنس‘‘ کے تحت سمندری معلومات کے تبادلے میں اشتراک بڑھانے کی تجویز دی۔فلپ بپٹسٹ نے انسانی خلائی پرواز کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کی پیشکش کی، جس میں خلابازوں کی تربیت، مائیکرو گریویٹی تجربات اور طویل مدتی مشترکہ منصوبے شامل ہیں۔انہوں نے بھارت کو ستمبر 2026 میں پیرس میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی خلائی کانفرنس میں فعال شرکت کی دعوت بھی دی اور تجویز پیش کی کہ اسے بنگلورو میں منعقد ہونے والے بھارتی خلائی پروگرام کے ساتھ مربوط کیا جا سکتا ہے تاکہ ایک عالمی سطح کا مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جا سکے۔اس موقع پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت کے ’’ڈیپ اوشن مشن‘‘ اور ملک کے وسیع ساحلی علاقے کا ذکر کرتے ہوئے سمندری تحقیق میں تعاون کے امکانات کو اہم قرار دیا۔دونوں رہنماؤں نے انڈو فرنچ سینٹر فار دی پرموشن آف ایڈوانس ریسرچ کے کردار کو بھی سراہا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان سائنسی تحقیق اور ادارہ جاتی اشتراک کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خلائی شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے اور مشترکہ تحقیق و اختراعات کے ذریعے عالمی سطح پر نئی کامیابیاں حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔