ممبئی: انڈین پریمیئر لیگ کے موجودہ سیزن میں جدوجہد سے دوچار ممبئی انڈینز نے ایک اہم مقابلے میں شاندار واپسی کرتے ہوئے لکھنؤ سپر جائنٹس کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔ وانکھیڈے اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں سب سے بڑی حیرت اس وقت دیکھنے کو ملی جب ٹیم کے مستقل کپتان ہاردک پانڈیا کی جگہ سوریہ کمار یادو ٹاس کے لیے میدان میں نظر آئے، جس کے بعد ٹیم کے اندرونی حالات پر بحث چھڑ گئی۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے سوریہ کمار یادیو نے وضاحت دی کہ ہاردک پانڈیا طبیعت ناساز ہونے کے باعث اس مقابلے میں شرکت نہیں کر سکے، اسی لیے انہیں کپتانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم اس اچانک تبدیلی نے مداحوں اور ماہرین کے درمیان کئی سوالات کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹیم پہلے ہی خراب فارم سے گزر رہی تھی۔
ممبئی انڈینز کے لیے یہ سیزن اب تک مایوس کن رہا ہے۔ اس جیت سے قبل ٹیم 10 میچوں میں صرف 2 فتوحات حاصل کر سکی تھی اور پوائنٹس ٹیبل میں نچلے حصے میں موجود تھی۔ ناقدین کی جانب سے مسلسل ناکامیوں کا ذمہ دار کپتان ہاردک پانڈیا کو ٹھہرایا جا رہا تھا، جس کے بعد اس میچ میں کپتانی کی تبدیلی نے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی۔ میچ کی بات کریں تو لکھنؤ سپر جائنٹس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بڑا اسکور کھڑا کیا اور ممبئی کے سامنے 226 رنز کا مشکل ہدف رکھا۔ تاہم جواب میں ممبئی کے بلے بازوں نے شاندار کھیل پیش کیا۔ اوپنر ریان رکلٹن نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 32 گیندوں پر 83 رنز بنائے، جبکہ تجربہ کار بلے باز روہت شرما نے 44 گیندوں پر 84 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیل کر ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔ممبئی نے بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 4 وکٹوں کے نقصان پر 229 رنز بنا کر ہدف حاصل کر لیا اور آٹھ گیندیں باقی رہتے ہوئے میچ اپنے نام کر لیا۔ اگرچہ سوریہ کمار یادیو اس میچ میں بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہو سکے، لیکن ان کی قیادت میں ٹیم نے منظم انداز میں کھیلتے ہوئے اہم فتح حاصل کی۔ اس جیت کے باوجود ممبئی انڈینز کے لیے پلے آف تک پہنچنے کی راہ اب بھی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ ٹیم کو اگلے میچوں میں مسلسل کامیابی حاصل کرنا ہوگی تاکہ وہ ٹاپ چار میں جگہ بنا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیم کے اندر ہم آہنگی اور قیادت کے حوالے سے وضاحت ضروری ہے، تاکہ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مثبت اثر پڑ سکے۔
دوسری جانب مداحوں کی نظریں اب ہاردک پانڈیا کی واپسی پر مرکوز ہیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وہ کب فٹ ہو کر ٹیم میں شامل ہوتے ہیں اور آیا وہ دوبارہ کپتانی سنبھالتے ہیں یا نہیں۔ ساتھ ہی روہت شرما کی فارم اور دیگر کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی ٹیم کے مستقبل کا تعین کرے گی۔ مجموعی طور پر اس میچ نے ممبئی انڈینز کو ایک نئی امید ضرور دی ہے، لیکن ٹیم کے اندرونی حالات اور قیادت کے فیصلے اب بھی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ جیت ٹیم کے لیے نیا موڑ ثابت ہوتی ہے یا محض ایک وقتی کامیابی۔ (بھارت ایکسپریس اردو)










