نیتی آیوگنے کئے جموں و کشمیر کے پوشیدہ سیاحتی مقامات اجاگر

نیتی آیوگنے کئے جموں و کشمیر کے پوشیدہ سیاحتی مقامات اجاگر

ڈکسم، توسہ میدان، ناراناگ، کرناہ اور وٹلب جیسے مقامات سیاحت کے نئے مراکز قرار

سرینگر// یو این ایس//نیتی آیوگ کی جانب سے شائع کردہ ‘‘دیویا بھارت’’ نامی مجموعہ نے جموں و کشمیر کے اْن سیاحتی مقامات کو منظر عام پر لایا ہے جو طویل عرصے سے نظر انداز رہے ہیں۔ اس اقدام کو خطے میں سیاحت کے فروغ اور توازن پیدا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ماضی میں جموں و کشمیر کی سیاحت کا زیادہ تر دار و مدار گلمرگ، پہلگام اور سری نگر کی ڈل جھیل جیسے معروف مقامات تک محدود رہا، تاہم اب کم معروف اور دور دراز علاقوں کو بھی سیاحتی نقشے پر لانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ نیتی آیوگ کی اس کاوش کا مقصد نہ صرف نئے مقامات کو فروغ دینا ہے بلکہ بھیڑ بھاڑ والے سیاحتی مراکز پر دباؤ کم کرنا بھی ہے۔یو این ایس کے مطابق’’دیویا بھارت’’ میں جموں خطے کے کئی دلکش مقامات کو نمایاں کیا گیا ہے، جن میں پونچھ ضلع کا نوری چشمہ آبشار شامل ہے جو مغل دور کی ملکہ نور جہاں سے منسوب ہے۔ رام بن کا سنسار اپنی جھیلوں، پیراگلائیڈنگ اور قدرتی حسن کے باعث ایک متبادل سیاحتی مقام کے طور پر ابھر سکتا ہے۔راجوری کے درہال اور بدھل وادیاں بھی قدرتی حسن، آبشاروں اور مقامی ثقافت کے باعث ایک اہم ایکو ٹورزم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ کوٹرنکہ قصبہ اپنی پْرسکون فضاء اور دریا کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے مزید کشش پیدا کرتا ہے۔ ادھم پور کا رام نگر، جو کبھی ایک شاہی دارالحکومت تھا، اپنی تاریخی عمارات اور قدرتی ماحول کے باعث منفرد حیثیت رکھتا ہے۔وادی کشمیر میں اننت ناگ کا چٹپال گھنے دیودار جنگلات اور سرسبز میدانوں کے درمیان واقع ایک پْرسکون مقام ہے، جبکہ ڈاکسم اپنی خوبصورت وادی اور برنگی ندی کے ساتھ کیمپنگ کے لیے موزوں ہے۔ سنگم میڈو بھی اپنی قدرتی خوبصورتی کے باعث سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتا ہے۔بڈگام کا توسہ میدان، جو کبھی فائرنگ رینج تھا، اب ایک پْرسکون چراگاہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ گاندربل میں نارانگ مندر کے کھنڈرات آٹھویں صدی کی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں جبکہ شیر پتھری اور شالہ بگ ویٹ لینڈ ماحولیاتی اور ثقافتی اہمیت کے حامل ہیں۔کپواڑہ کی کرناہ وادی اپنی قدیم روایات اور قدرتی حسن کے باعث منفرد مقام رکھتی ہے، جبکہ پلوامہ کا لڈھو مندر اپنی منفرد طرز تعمیر کی وجہ سے توجہ کا مرکز ہے۔ بارہمولہ کے وٹلب میں واقع صوفی درگاہ اور ولر جھیل کا منظر سیاحوں کو روحانی اور قدرتی سکون فراہم کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ان مقامات کو مناسب منصوبہ بندی کے تحت ترقی دی جائے تو نہ صرف سیاحتی دباؤ کم ہوگا بلکہ دور دراز علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ماحولیات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔