1 million tourists arrive after Bissar attack, official figures released

خوف کے سائے چھٹنے لگے، پہلگام میں زندگی کی دھیمی واپسی

سیاحوں کی آہٹ، وادی میں امید کی نئی لہر،کاروبار سنبھلنے لگا، مگر مکمل بحالی کیلئے مزید وقت درکار

سرینگر// یو این ایس//گزشتہ سال پیش آنے والے المناک حملے کے بعد مشہور سیاحتی مقام پہلگام آہستہ آہستہ معمول کی طرف لوٹ رہا ہے، جہاں سیاحوں کی بتدریج واپسی نے مقامی آبادی اور کاروباری طبقے میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ حالات ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے، تاہم زندگی کی واپسی کے آثار واضح طور پر دکھائی دینے لگے ہیں۔یو این ایس کے مطابق پہلگام کے بازاروں میں ایک بار پھر ہلکی چہل پہل نظر آ رہی ہے۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں اور سیاح برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں اور خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ دریائے لیدر کے کنارے بیٹھے سیاح قدرتی حسن اور سکون کے لمحات گزار رہے ہیں، جو اس مقام کی پہچان رہا ہے۔یاد رہے کہ 22 اپریل گزشتہ سال بیسرن کے مقام پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں 25 سیاح اور ایک مقامی پونی والا جاں بحق ہوا تھا، جس کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد کئی ماہ تک پہلگام میں مکمل سناٹا رہا، ہوٹل خالی ہو گئے، بکنگ منسوخ ہو گئی اور سیاحت سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار بری طرح متاثر ہوا۔مقامی مرکبانوں کے مطابق’’تقریباً چھ ماہ تک یہاں مکمل خاموشی رہی، ایک بھی سیاح نہیں آیا۔ اب جب کچھ لوگ واپس آ رہے ہیں تو لگتا ہے کہ حالات بدلنے لگے ہیں اور امید دوبارہ زندہ ہو رہی ہے۔‘‘اس وقت آرڈ ویلی اور بیتاب ویلی جیسے سیاحتی مقامات پر محدود تعداد میں سیاح دیکھنے کو مل رہے ہیں، جبکہ بیسرن کا علاقہ تاحال بند ہے۔ ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ بکنگ ابھی بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے اور تقریباً 30 فیصد تک محدود ہے، تاہم وہ اسے بحالی کی سمت ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔سیاحوں کا کہنا ہے کہ پہلگام کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی انہیں بار بار یہاں آنے پر مجبور کرتی ہے۔ مہاراشٹر سے آئے ایک سیاح نے بتایا کہ انہیں یہاں کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوا اور ہر جگہ مقامی لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔کولکاتا سے آئی ایک خاتون سیاح نے کہا، ‘‘یہاں لوگ صرف خدمت نہیں کرتے بلکہ ذاتی طور پر خیال بھی رکھتے ہیں، جو ایک منفرد تجربہ ہے اور ہمیں گھر جیسا احساس دیتا ہے۔مقامی کاروباری افراد سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں۔ ایک ریسٹورنٹ مالک نے بتایا کہ وہ سیاحوں کو مفت کہوا اور ہلکی پھلکی ضیافت پیش کر رہے ہیں تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ یہاں محفوظ ہیں اور ان کا خیرمقدم ہے۔ بعض مقامی لوگوں نے مشکل وقت میں سیاحوں کو اپنے گھروں میں پناہ بھی دی تھی، جسے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ہوٹل مالکان اور دیگر کاروباری افراد کے مطابق مکمل بحالی میں ابھی وقت لگے گا، لیکن سیاحوں کی واپسی ایک مثبت اشارہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حالات سازگار رہے تو آنے والے مہینوں میں سیاحوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔مقامی لوگوں کے لیے یہ بحالی صرف معاشی نہیں بلکہ جذباتی بھی ہے۔ ایک رہائشی نے کہا، ‘‘ہم چاہتے ہیں کہ دنیا دیکھے کہ کشمیر امن، محبت اور مہمان نوازی کی سرزمین ہے۔ جو کچھ ہوا وہ افسوسناک تھا، مگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔اگرچہ سانحہ کی یادیں ابھی بھی تازہ ہیں اور رفتار سست ہے، لیکن پہلگام میں زندگی کی یہ واپسی ایک نئی شروعات کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جہاں ہر آنے والا سیاح نہ صرف کاروبار بلکہ اعتماد کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 سے اپریل 2026 تک تقریباً 10 لاکھ سیاح اس خوبصورت مقام کا رخ کر چکے ہیں۔یو این ایس کے مطابق محکمہ سیاحت جموں و کشمیر کے مطابق اس عرصے کے دوران کل 9,93,596 سیاحوں نے پہلگام کا دورہ کیا۔ یاد رہے کہ بایسرن دہشت گرد حملہ 2025 کے فوری بعد سیاحوں کی آمد میں شدید کمی دیکھنے کو ملی تھی۔ اس حملے میں 25 سیاحوں اور ایک مقامی نوجوان عادل حسین شاہ کی جان گئی تھی۔اعداد و شمار کے مطابق مئی 2025 میں صرف 15,302 سیاح پہلگام پہنچے، جو اس مدت کا سب سے کم ماہانہ ریکارڈ رہا۔ تاہم اس کے بعد سیاحت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا اور آنے والے مہینوں میں سیاحوں کی تعداد میں نمایاں بہتری درج کی گئی۔ماہانہ تفصیلات کے مطابق اپریل 2025 میں 2,04,289، جون میں 1,08,117، جولائی میں 32,163، اگست میں 93,366، ستمبر میں 48,919، اکتوبر میں 50,777، نومبر میں 35,263، دسمبر میں 68,919، جنوری 2026 میں 80,421، فروری میں 67,471، مارچ میں 85,741 جبکہ اپریل 2026 (تاحال) میں 1,02,848 سیاحوں نے پہلگام کا دورہ کیا۔غیر ملکی سیاحوں کی آمد بھی بحال ہوئی ہے، اور اس عرصے میں 9,638 غیر ملکی سیاح پہلگام پہنچے، جن میں متحدہ عرب امارات، تھائی لینڈ، سنگاپور اور ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے سیاح شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 2023 سے اپریل 2026 تک مجموعی طور پر 40,60,909 سیاحوں نے پہلگام کا رخ کیا۔ ان میں 2023 میں 14,54,269، 2024 میں 12,65,925، 2025 میں 10,04,234 جبکہ 2026 میں 20 اپریل تک 3,36,481 سیاح شامل ہیں۔ اسی طرح غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 2023 میں 15,061، 2024 میں 14,483، 2025 میں 9,090 جبکہ اپریل 2026 تک 4,486 ریکارڈ کی گئی۔