tariq hameed karra

ہماری ریاست ہمارا حق ، سٹیٹ ہڈ بحال ہونے تک پُرامن جدوجہد جاری رکھیں گے

جموں وکشمیر کے آئی اے ایس ، آئی پی ایس افسران کو سائڈ لائن کر کے بیرون ریاست کے ایسے افسران کو جموں وکشمیر کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں /طاریق حمید قرہ

سرینگر /اے پی آئی// ہماری ریاست ہمارا حق ہر گھر دستک ، گھر گھر دستک کی مہم کو دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے پردیش کانگریس کے صدر نے مرکزی حکومت کو حدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار جموں وکشمیر کے حوالے سے کبھی بھی سنجیدہ نہیں تھی ۔جب تک نہ ریاست کا درجہ بحال ہوگا کانگریس کی جدوجہد پُرامن طور پر جاری رہے گی ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق سرمائی راجدھانی جموں میں ذرائع ابلاغ کے ساتھ بات چیت کے دوران پردیش کانگریس کے صدر اور بٹہ مالو حلقے کے ممبر اسمبلی طاریق حمید رہ نے جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ دلانے کیلئے دوبارہ مہم شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے جموں وکشمیر کے 20اضلاع کے علاوہ تحصیل ، صدر مقامات تک گھر گھر دستک ، ہر گھر دستک ، ہماری ریاست ہمارا حق کی مہم کو جاری رکھا اور جب تک نہ مرکزی سرکار جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ دوبارہ بحال کرے گی پردیش کانگریس نہ صرف جموں وکشمیر میں بلکہ ملک میں بھی اپنی اس مہم کو پُرامن طریقے سے جاری رکھے گی ۔ انہوںنے کہا کہ کانگریس نے جموں سرینگر چلو ، دہلی میں احتجاج کرو کی مہم بھی چلائی اور اس دوران گرفتاریاں بھی ہوئیں ، مار بھی کھائی تاہم ہم اس مہم کو اُس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک نہ جموں وکشمیر کو سٹیٹ ہڈ کا درجہ بحال کیا جائے گا۔ انہوںنے مرکزی سرکار کو ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے حکومت کبھی بھی جموں وکشمیر کے حوالے سے سنجیدہ نہیں تھی ۔ پردیش کانگریس کے صدر نے کہا کہ مقامی بھارتیہ جنتا پارٹی کو مرکزی حکومت کے ارادوں کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے کہ وہ کس ڈیزائن کی پالیسی جموں وکشمیر میں اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ جب تک نہ انہیں اپنا منصوبہ کامیاب ہوتے نہیں دیکھا جائے گا وہ گو ما گو کی پالیسی اختیار کرتے رہیں گے ۔ پردیش کانگریس کے صدر نے کہا کہ حفاظتی معاملات ہوں یا سیول انتظامات کا کاج کاج مرکزی سرکار نے جو پالیسی اختیار کی ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے ۔ جموں وکشمیر کے آئی پی ایس اور آئی اے ایس آفیسران کو سائڈ لائن کر کے بیرون ریاست کے ایسے افسران کو جموں وکشمیر کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں تاکہ مرکزی حکومت کے ایجنڈے کو کامیاب بنایا جاسکے ۔