دفاعی تعاون ، فوجی روابط اور جدید شعبوں میں شراکت بڑھانے پر بات چیت متوقع
سرینگر/اے پی آئی// جرمنی اور بھارت کے مابین تعلقات اور اسٹرجک دفاعی شراکت کو یقینی بنانے کیلئے وزیر دفاع 21سے 32اپریل تک جرمنی کا درہ کرینگے جس کے دوران دفاع ، تعاون ، فوجی روابط اور جدید شعبوں میں شراکت بڑھانے پر بات چیت ہوگی ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق ملک کے وزیر دفاع 21سے 23اپریل تک جرمنی کا سرکاری دورہ کرینگے تاکہ دونوںممالک کے درمیان اسٹرجک دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جاسکے ۔ دفاعی ذرائع کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جرمن کے اپنے ہم منصب بوس پسٹوریٹس اور دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کرینگے ۔ مذاکرات میں دفاعی ، صنعتی تعاون کو فروغ دینے ، فوج سے فوج کے تعلقات کو مستحکم کرنے اور سائبر سیکورٹی ، مصنوعی ذہانت اور ڈرونز جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں موقعے تلاش کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔ اس موقعہ پر دفاعی ، صنعتی تعاون کا روڑ میپ اور اقوامی متحدہ کے امن مشنز کی تربیت میں تعاون سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط کئے جانے کا امکان ہے ۔ یہ دورہ جاری دفاعی تعاون کے اقدامات کا جائزہ لینے اور دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان نئے مواقع تلاش کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔ راجناتھ سنگھ جرمن دفاعی صنعت کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ ’’میک اِن انڈیا‘‘پہل کے تحت مشترکہ ترقی اور پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔یہ دورہ سات سال کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے۔ اس سے قبل فروری 2019 میں سابق وزیر دفاع نرملا سیتارمن نے جرمنی کا دورہ کیا تھا، جبکہ بورس پسٹوریئس جون 2023 میں بھارت آ کر راجناتھ سنگھ کے ساتھ تفصیلی بات چیت کر چکے ہیں۔بھارت اور جرمنی کے درمیان مضبوط اور کثیر جہتی اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے، جو جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور عالمی سطح پر اصولوں پر مبنی نظام کے مشترکہ عزم پر قائم ہے۔ حالیہ برسوں میں دفاع اور سلامتی کا تعاون اس شراکت داری کا اہم ستون بن کر ابھرا ہے، اور اس دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنا اور علاقائی و عالمی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔










