amit shah

خواتین کو مکمل آئینی حق دے کر رہیں گے، اپوزیشن کی سیاست بے نقاب

اپوزیشن نے ہر دور میں خواتین، او بی سی اور اصلاحات کی راہ روکی، اب عوام جواب دے گی//وزیر داخلہ امت شاہ

سرینگر/ یو این ایس//مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں حد بندی بل 2026، آئین (131ویں ترمیمی) بل اور یونین ٹیریٹریز قوانین (ترمیمی) بل پر تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت خواتین کو ان کا مکمل آئینی حق دلانے، جمہوری نمائندگی کو متوازن بنانے اور ملک کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور اس راستے میں کسی بھی سیاسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔اپنے طویل اور جارحانہ بیان میں امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘‘ملک کی بڑی اپوزیشن جماعت کی تاریخ خواتین کے حقوق کی مخالفت سے بھری پڑی ہے۔ شاہ بانو کیس سے لے کر تین طلاق کے خاتمے اور خواتین ریزرویشن تک، ہر مرحلے پر انہوں نے خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش کی۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ‘‘ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر’’ کے اصول پر یقین رکھتی ہے، اور حد بندی کا پورا عمل اسی بنیاد پر کیا جا رہا ہے تاکہ ہر شہری کو اس کی آبادی کے مطابق نمائندگی مل سکے۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 81، 82 اور 170 واضح طور پر اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ وقتاً فوقتاً حلقہ بندی کی جائے تاکہ جمہوری توازن برقرار رہے۔امت شاہ نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘‘1976 میں ایمرجنسی کے دوران حد بندی کو روک دیا گیا تاکہ اقتدار کو برقرار رکھا جا سکے، اور بعد میں 2001 میں بھی اسے 2026 تک منجمد رکھا گیا۔ اس طرح ملک کے عوام کو گزشتہ 50 برسوں سے ان کی آبادی کے مطابق نمائندگی نہیں ملی، جو جمہوریت کے بنیادی اصول کے خلاف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2026 کے بعد حد بندی کا عمل شروع ہوگا، لیکن یہ ایک وسیع اور پیچیدہ عمل ہے جس میں ہر حلقے میں عوامی سماعت، زمینی جائزہ اور انتظامی تبدیلیاں شامل ہوں گی، اس لیے اس کی تکمیل میں وقت لگ سکتا ہے اور 2029 تک یہ مکمل ہونے کی توقع ہے۔مردم شماری کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ ‘‘2021 کی مردم شماری کووڈ-19 وبا کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکی، جو صدی کی سب سے بڑی وبا تھی۔ اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2026 کی مردم شماری ذات کی بنیاد پر بھی کی جائے گی، جو ایک اہم اور تاریخی قدم ہوگا۔یو این ایس کے مطابق ’’جنوبی ریاستوں کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ‘‘یہ کہنا غلط ہے کہ حد بندی سے جنوبی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ موجودہ 23.76 فیصد حصہ بڑھ کر 23.87 فیصد ہو جائے گا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت متوازن نمائندگی کو یقینی بنا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ ‘‘شمال-جنوب تقسیم’’ کا بیانیہ کھڑا کر کے ملک کو بانٹنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ آئین کی روح اس کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر رکن پارلیمنٹ پورے ملک کی نمائندگی کا حلف لیتا ہے، نہ کہ کسی مخصوص خطے یا طبقے کا۔ریزرویشن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے مسلم خواتین کے لیے الگ ریزرویشن کا مطالبہ آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر ‘‘تسکین کی سیاست’’ کا الزام بھی عائد کیا۔او بی سی ریزرویشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘‘1957 میں کاکا کالیلکر کمیشن کی سفارشات کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا، اور منڈل کمیشن کی رپورٹ کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ یہ سب اسی اپوزیشن کی حکومتوں کے دور میں ہوا۔خواتین ریزرویشن بل کی تاریخ بیان کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ ‘‘1996 سے لے کر 2014 تک کئی بار یہ بل پیش کیا گیا، لیکن ہر بار اپوزیشن کی وجہ سے منظور نہ ہو سکا۔ آخرکار 2023 میں نریندر مودی کی قیادت میں ‘ناری شکتی وندن ایکٹ’ منظور کیا گیا، جو خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب اس قانون کو نافذ کرنے کا وقت آیا تو اپوزیشن نے ایک بار پھر رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں، جسے خواتین کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ‘‘آنے والے انتخابات میں اپوزیشن کو نہ صرف 2029 میں بلکہ ہر سطح پر خواتین کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔امت شاہ نے مزید کہا کہ ’’آج ملک میں خواتین کی سیاسی شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پہلی لوک سبھا میں صرف 22 خواتین تھیں، جبکہ آج یہ تعداد بڑھ کر ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین اب قیادت کے لیے تیار ہیں۔‘‘انہوں نے حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے خواتین کی قیادت کو فروغ دیا، انہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا اور ملک کو پہلی قبائلی خاتون صدر دینے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا ’’حکومت کا مقصد صرف انتخابات جیتنا نہیں بلکہ ملک کو مضبوط بنانا اور ہر شہری کو اس کا حق دینا ہے۔ ہم خواتین کو بااختیار بنانے، انہیں سیاسی نمائندگی دینے اور ایک مضبوط، شفاف اور متوازن جمہوری نظام قائم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتے رہیں گے، چاہے ہمیں کتنی ہی مخالفت کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔