خشک موسم:زرعی ایڈوائزری جاری

وادی کشمیر میں جاری طویل خشک موسم اور درجہ حرارت میں اضافے کے پیش نظر شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی کشمیر کے ماہرین نے کسانوں اور باغبانوں کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں فصلوں کے تحفظ اور زمین کی نمی برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ موجودہ خشک حالات میں سب سے اہم ترجیح کھڑی فصلوں کو گرمی کے دباو اور زمین کی خشکی سے محفوظ رکھنا ہونا چاہیے۔ ایڈوائزری میں وادی کے کسانوں اور باغبانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مٹی میں نمی برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔پھلدار درختوں کے مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ درختوں کے گرد 4 سے 6 انچ تک نامیاتی ملچ جیسے دھان کی پرالی یا گھاس کا استعمال کریں تاکہ زمین کی نمی برقرار رہے۔ ماہرین نے پولیتھین شیٹ جیسے غیر نامیاتی ملچ کے استعمال سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے کیونکہ اس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے اور جڑوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ایڈوائزری کے مطابق جن باغات میں ا?بپاشی کی سہولت موجود نہیں وہاں کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کھاد کا استعمال اس وقت تک موٓخر رکھیں جب تک زمین میں مناسب نمی دستیاب نہ ہو۔ اس کے علاوہ باغات میں ضرورت سے زیادہ گوڈی یا بھاری ٹریکٹروں کی نقل و حرکت سے بھی گریز کرنے کو کہا گیا ہے کیونکہ اس سے زمین مزید خشک ہو سکتی ہے۔کھیتی باڑی کے حوالے سے گندم، سرسوں اور مٹر اگانے والے کسانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کھیتوں کی باقاعدہ نگرانی کریں اور جڑی بوٹیوں کو نکال دیں تاکہ دستیاب نمی فصلوں کے بجائے گھاس پھوس میں ضائع نہ ہو۔ ماہرین نے یوریا کے استعمال کو فی کنال 2.5 کلوگرام تک محدود رکھنے اور اسے صرف اس وقت استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے جب زمین میں مناسب نمی موجود ہو۔سبزیوں اور پھولوں کی کاشت، خصوصاً ٹیولپ کے لیے ماہرین نے صبح سویرے یا شام کے وقت ہلکی مگر بار بار آبپاشی کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ پانی کے ضیاع کو کم کیا جا سکے۔ ٹماٹر، مرچ، شملہ مرچ اور بند گوبھی جیسی فصلوں کی نرسریوں کو شیڈ نیٹ یا پرالی سے ڈھانپنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے تاکہ گرمی کے اثرات کم ہوں۔ماہرین نے باغات میں مٹی کو ہلکا سا کھرچنے کی بھی تجویز دی ہے تاکہ کیڑوں کے سنڈے اور لاروے دھوپ میں آ کر قدرتی طور پر ختم ہو سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سیب کے درختوں میں کیڑوں کی نگرانی کے لیے فی ہیکٹر 8 سے 10 فیرومون ٹریپس نصب کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ایڈوائزری میں ماہی پروری کے شعبے کے لیے بھی رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ مچھلی پالنے والے کسان تالاب کے پانی میں آکسیجن کی مقدار 6 ملی گرام فی لیٹر سے زیادہ برقرار رکھیں اور پانی کی گہرائی 1.5 سے 2 میٹر کے درمیان رکھیں۔ کم آکسیجن کی صورت میں مچھلیوں کو کم خوراک دی جائے اور بہتر صحت کے لیے وٹامن سی اور پروبائیوٹکس سے بھرپور خوراک استعمال کی جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسان بروقت ان ہدایات پر عمل کریں تو موجودہ خشک موسم کے دوران فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے اور زرعی پیداوار کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔