Nityanand_Rai_dooran

53 مر کزی منصوبے روبہ عمل ،25 پروجیکٹ مکمل،21 پن بجلی پروجیکٹوں کی ترقی،26ہزار اسامیوں کی نشاندہی

سڑکوں، بجلی، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، مہارت کی ترقی پرخاص توجہ مرکوز:مرکزی وزیر مملکت داخلہ نتیا نند رائے

سری نگر//مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کی ترقی کو فروغ دینے کیلئے کئی اقدامات اُٹھائے ہیں،جن میں21پن بجلی پروجیکٹوں پرکام کاآغاز،سری نگر ہوائی اڈے پر بین الاقوامی پروازیں شروع کرنااوربھرتی کیلئے26ہزار اسامیوںکی نشاندہی وغیرہ شامل ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق رُکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کے ایک سوال کے تحریری جواب میں، وزیر مملکت (داخلہ) نتیا نند رائے نے منگل کے روزایوان کوبتایاکہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر کی ہمہ جہت ترقی کیلئے کیا کوشاں ہے۔انہوںنے کہا کہ جموں کشمیر کی ترقی کے لیے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں جن میں مختلف سرکاری محکموںمیں26ہزاراسامیوںکی نشاندہی،21 ہائیڈرو پاور پروجیکٹوں پرکام کا آغاز، سری نگر ہوائی اڈے پر بین الاقوامی پروازیں شروع کرنا وغیرہ شامل ہیں۔مرکزی وزیر مملکت برائے امورداخلہ نتیا نند رائے نے کہاکہ وزیر اعظم کے ترقیاتی پیکیج2015 کے تحت یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر میں ہاتھ میں لئے جانے والے پروجیکٹوں کی پیشرفت کو تیز کیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ سڑکوں، بجلی، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، اسکل ڈیولپمنٹ وغیرہ جیسے مختلف شعبوں میں58,477 کروڑ روپے کی لاگت سے 15 وزارتوں سے متعلق53 منصوبے جموں وکشمیرمیں روبہ عمل لائے جا رہے ہیں، جن میں سے 25 پروجیکٹ مکمل اورکافی حد تک مکمل ہو چکے ہیں۔مرکزی وزیر مملکت (داخلہ) نتیا نند رائے نے کہاکہ جموں وکشمیرکی صنعتی ترقی کیلئے مالی سال2019 ، 2020اور2021کے دوران 28,400 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ ایک نئی مرکزی سیکٹر اسکیم کو مطلع کیا گیا ہے، جس سے جموں و کشمیر کی ترقی اورصنعتی ترقی کو فروغ دیتے ہوئے4.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر نے25 ستمبر2020 کو1,352.99 کروڑ روپے کے کاروباری بحالی پیکیج کی منظوری دی ہے۔نتیا نند رائے نے کہاکہ منسوخ پروجیکٹ پروگرام کے تحت1984 کروڑ روپے کے 1193 پروجیکٹ مکمل کئے گئے، جن میں 5 پروجیکٹ 20سال سے زائد عرصے سے نامکمل تھے15 پروجیکٹ15 سال سے زیادہ اور 10 سال سے زیادہ کے165 پروجیکٹ شامل ہیں۔انہوںنے کہاکہ جموں کشمیر کو سوچھ بھارت مشن کے تحت کھلے میں رفع حاجت سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ 17 انفرادی فائدہ اٹھانے والے مرکزی اسکیموں میں 100 فیصد سنترپتی حاصل کی گئی ہے، جن میں سوبھاگیہ، اجالا، اجولا اور اندرا دھنش اسکیم شامل ہیں۔مرکزی وزیر مملکت (داخلہ) نتیا نند رائے نے مزید کہاکہسال 2020-21کے دوران1638 کروڑ روپے کی لاگت سے 1289 سڑکوں کی تعمیر کے کام مکمل کئے گئے جبکہ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت اب تک 14,500 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کا کام مکمل ہو چکا ہے جس نے تقریباً 2000 مقامات کو جوڑ دیا ہے۔مرکزی وزیر مملکت برائے امورداخلہ نے کہاکہ جموں اوا کشمیر ڈویڑنوں میں ہر ایک میں 2000 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے قیام کے لئے کام شروع کیا گیا ہے، اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں7 دیگر میڈیکل کالجوں کے علاوہ۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IIT) جموں اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (IIM) جموں کو فعال بنا دیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ اگلے 5سالوں میں 5,186 میگاواٹ کی مجموعی صلاحیت کے21 ہائیڈرو پاور پروجیکٹوں کو ترقی کیلئے ہاتھ میں لیا گیا ہے۔ سری نگر سے شارجہ کے لئے بین الاقوامی پرواز23اکتوبر2021کو شروع کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جموں اور سری نگر سے رات کی پروازیں بھی شروع کی گئی ہیں۔مرکزی وزیر مملکت برائے امورداخلہ کاکہناتھاکہ سیبوںکی پیداوربڑھانے کیلئے ہائی ڈینسیٹی پلانٹیشن اسکیم کے دائرہ کار میں آم، لیچی، چیری، اور اخروٹ وغیرہ کو شامل کیا گیا ہے۔ کشمیری زعفران کو جیوگرافیکل انڈیکیشن (جی آئی) ٹیگ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فاسٹ ٹریک بھرتی کے تحت جموں و کشمیر کے مختلف محکموں میں 26ہزار330 آسامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان پر بھرتی کی گئی ہے۔ فی الحال11,324 آسامیوں کے حوالے سے انتخاب کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔