سری نگر//اگست وہ دن ہے جب2019 میں مرکزی سرکارنے جموں و کشمیر کوحاصل خصوصی آئین پوزیشن سے متعلق آئین ہندکی دفعہ 370اوریہاں کے لوگوں کو حاصل منفردحقوق سے متعلق دفعہ35Aکومنسوخ کرنے کیساتھ ساتھ سابق ویاست کوجموں و کشمیر اور لداخ کے2 مرکزی علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔جے کے این ایس کے مطابق 5،اگست 2021کو اس تاریخی فیصلے کی دوسری برسی ہے ۔ایک نیوز رپورٹ میں گزشتہ2برسوں کے دوران جموں وکشمیر سے متعلق لئے گئے کچھ اہم فیصلوں یااُٹھائے گئے اقدامات کااحاطہ کیا گیاہے ۔سب سے اہم بات یہ ہوئی کہ دفعہ370منسوخ ہونے کے بعدتمام مرکزی قوانین کویہاں لاگو کردیاگیا ،اوردفعہ35Aکی منسوخی کے بعدمرکزی حکومت نے جموں و کشمیر ڈیولپمنٹ ایکٹ کے سیکشن17 سے’ریاست کا مستقل رہائشی‘کا جملہ خارج کر دیا،جسکے تحت جموں و کشمیر سے باہر کے لوگوں کویہ حق دیاگیاکہ وہ جموں وکشمیرمیں زمین خرید سکتے ہیں۔سال2020کے ماہ اکتوبر میں مرکز نے جموں و کشمیر سے باہر کے لوگوں کے لئے مرکزی علاقے میں زمین خریدنے کی راہ ہموار کی۔ ایک گیزٹ نوٹیفکیشن میں ، مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر ڈیولپمنٹ ایکٹ کے سیکشن17 سے’ریاست کا مستقل رہائشی‘جملہ خارج کر دیا جو کہ یونین ٹریٹری(جموں وکشمیر) میں زمین کے تصرف سے متعلق ہے۔ تاہم ، ترمیم نے غیر زرعی ماہرین کو زرعی اراضی کی منتقلی کی اجازت نہیں دی،ما سوائے چند معاملات کے،جسکی رئو سے بغرض صنعتی وکاروباری سرگرمیوں کے جموں وکشمیرسے باہرکے لوگ یہاں زمین وجائیدادخریدسکتے ہیں۔دوسری اہم بات یہ کہ جموں و کشمیر کی خواتین کے غیر مقامی شوہروں کو ڈومیسائل کا درجہ گیاہے،اوراب ایسے غیر مقامی شہری بھی جموں وکشمیرمیں مستقل رہائشی ہونے کی سرٹیفکیٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ رواں سال جولائی میں جموں و کشمیر سے باہر شادی شدہ مقامی خواتین کے شوہروں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دینے کی اجازت دینے کے لئے قوانین میں تبدیلی کی گئی تھی۔ اس اقدام سے اُنہیں جموںوکشمیر میں زمین یا جائیداد خریدنے یا سرکاری ملازمتوں کیلئے درخواست دینے کی اجازت مل گئی، وہ تمام غیرمقامی لوگ جو جموں وکشمیر میں 15 سال سے مقیم ہیں ، یاجنہوں نے7 سال تک یہاں تعلیم حاصل کی ہے اور اس علاقے کے کسی تعلیمی ادارے میں دسویں یا بارہویں کے امتحان میں حاضر ہوئے ہیں اور ان کے بچے ڈومیسائل درجہ یاسرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے اہل ہیں۔جموں و کشمیر کا علیحدہ جھنڈا ختم ہو گیا: آرٹیکل370 کی منسوخی کے بعد سری نگر اورجموںمیں سیول سیکرٹریٹ پر ترنگا لہرا دیاگیااورجموں وکشمیرکاہل والا جھنڈاُتاراگیا ، جبکہ ریاست کا اپنا پرچم غائب تھا۔ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے جموں وکشمیرکے 2سیول سیکرٹریٹوں پرجموں وکشمیرکااپنا جھنڈا اور قومی پرچم ترنگا کے ساتھ لہرا رہا تھالیکن اب وہ سلسلہ ختم کردیاگیاہے۔پتھر بازوں کو پاسپورٹ کے اورملازمتوںلئے سیکورٹی کلیئرنس نہیں: جموں و کشمیر پولیس کے سی آئی ڈی ونگ نے پتھر بازی یا تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد کو پاسپورٹ اور دیگر سرکاری خدمات یعنی ملازمتوں کے لئے درکار سیکورٹی کلیئرنس سے انکار کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم31 جولائی کو جاری کیا گیا تھا اور تمام شعبوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایسے افرادجن کیخلاف امن و امان ، پتھر بازی اور دیگر جرائم سے متعلق مقدمات درج ہیں ،اُن کو پاسپورٹ اور سرکاری ملازمتیں دیتے وقت کلیرئینس نہ دی جائے۔ پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کی تشکیل: 5،اگست2019کوجموں و کشمیر کوحاصل خصوصی آئین پوزیشن سے متعلق آئین ہندکی دفعہ 370اوریہاں کے لوگوں کو حاصل منفردحقوق سے متعلق دفعہ35Aکومنسوخ کرنے کیساتھ ساتھ سابق ویاست کوجموں و کشمیر اور لداخ کے2 مرکزی علاقوں میں تقسیم کئے جانے سے ایک روز قبل4،اگست2019کی شام مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران بشمول تین سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹرفاروق ،عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی ،سجادغنی لون،محمدیوسف تاریگامی اورڈاکٹرشاہ فیصل سمیت کئی سینئرلیڈروں نے پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ تشکیل دیا۔اس اتحاد کا مقصد خطے کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے کام کرنا ہے۔










