فلڈ سپل چینل، ڈیٹنشن بیسن اور آؤٹ فال چینل کی توسیع کی تجاویز تاحال عملدرآمد کی منتظر
سرینگر// 2014 کے تباہ کن سیلاب کو بارہ برس گزر جانے کے باوجود وادی کشمیر اب بھی ایک جامع اور طویل مدتی فلڈ مینجمنٹ منصوبے سے محروم ہے۔ اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران دریائے جہلم کی بڑے پیمانے پر ڈریجنگ، پشتوں کی مضبوطی اور دیگر ہنگامی نوعیت کے اقدامات انجام دیے گئے، تاہم ماہرین کی جانب سے تجویز کردہ بنیادی انجینئرنگ منصوبے آج بھی عملی شکل اختیار نہیں کر سکے ہیں۔یو این ایس کے مطابق مرکزی وزارت جل شکتی کے تحت کام کرنے والے ملک کے ممتاز تحقیقی ادارے سینٹرل واٹر اینڈ پاور ریسرچ اسٹیشن کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں مستقبل کے سیلابی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے صرف ڈریجنگ کافی نہیں بلکہ فلڈ سپل چینل میں تبدیلیاں، موجودہ جھیلوں سے منسلک ڈیٹنشن بیسنز (پانی ذخیرہ کرنے والے عارضی حوض) کی تعمیر اور آؤٹ فال چینل کو مزید چوڑا کرنا ناگزیر ہے۔یہ مطالعہ جموں و کشمیر حکومت نے 2017-18 میں دوسرے مرحلے کے جامع فلڈ مینجمنٹ پلان کی تیاری کے لیے کرایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں حکومت نے ڈریجنگ اور دیگر فوری نوعیت کے حفاظتی اقدامات مکمل کیے تھے، تاہم انہیں صرف عبوری اقدامات قرار دیا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ڈبلیو پی آر ایس کو ایک ریاضیاتی ماڈل تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ پادشاہ باغ کے مقام پر فی سیکنڈ 1700 مکعب میٹر پانی کے بہاؤ کو دریائے جہلم اور فلڈ سپل چینل کے ذریعے کس طرح محفوظ انداز میں گزارا جا سکتا ہے۔ادارے نے صرف ڈریجنگ تک محدود رہنے کے بجائے سیلاب سے تحفظ کے 19 مختلف متبادل منصوبوں کا جائزہ لیا۔ ان میں مختلف انجینئرنگ اقدامات کو یکجا کرکے ان کی افادیت کا مطالعہ کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق رپورٹ کے مطابق سب سے مؤثر اور ترجیحی منصوبہ فلڈ سپل چینل میں ضروری تبدیلیاں، موجودہ جھیلوں کو ڈیٹنشن بیسنز کے طور پر استعمال کرنے کے لیے آپس میں منسلک کرنا اور آؤٹ فال چینل کو 40 میٹر تک وسیع کرنا قرار دیا گیا۔ ماہرین نے اسے مستقبل میں بڑے سیلابوں سے نمٹنے کے لیے بہترین حکمت عملی قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں ایک دوسرے متبادل کے طور پر فلڈ سپل چینل میں مجوزہ تبدیلیوں کے ساتھ کروڈ وئیر کے زیریں حصے سے آر ڈی 173.2 کلومیٹر تک آؤٹ فال چینل کو چوڑا کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی، جبکہ تیسرے متبادل میں اسی نوعیت کی نسبتاً مختصر توسیع تجویز کی گئی ہے۔سی ڈبلیو پی آر ایس نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ سیلاب سے تحفظ کے نقط نظر سے کسی بڑے بیراج کی تعمیر سے خاطر خواہ فائدہ حاصل ہونے کے شواہد موجود نہیں، اس لیے بیراج کی تعمیر کو مناسب حل قرار نہیں دیا گیا۔اگرچہ یہ سفارشات کئی برس قبل پیش کی جا چکی ہیں، لیکن ان پر اب تک عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق بعد میں عالمی بینک کے تعاون سے ہونے والی ایک فزیبلٹی اسٹڈی میں ابتدائی منصوبے کے بعض پہلوؤں پر سوالات اٹھائے گئے، جس کے بعد معاملہ مزید تکنیکی جائزے کے لیے مرکزی آبی کمیشن کے سپرد کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق ادھر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم ترقیاتی پیکیج کے تحت دریائے جہلم میں وسیع پیمانے پر ڈریجنگ کے نتیجے میں دریا کی پانی گزرنے کی صلاحیت 31 ہزار 800 کیوسک سے بڑھ کر 41 ہزار کیوسک ہو گئی، جبکہ فلڈ سپل چینل کی استعداد بھی 4 ہزار کیوسک سے بڑھ کر 8 ہزار 700 کیوسک تک پہنچائی گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈریجنگ اور پشتوں کی مضبوطی سے فوری نوعیت کا تحفظ ضرور حاصل ہوا ہے، تاہم کشمیر کو مستقبل کے بڑے سیلابوں سے محفوظ بنانے کے لیے طویل مدتی جامع منصوبوں پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ بارہ برس گزرنے کے باوجود فلڈ سپل چینل میں مجوزہ تبدیلیاں، ڈیٹنشن بیسنز کی تعمیر اور آؤٹ فال چینل کی توسیع جیسے اہم منصوبے ابھی تک کاغذوں تک محدود ہیں، جس کے باعث وادی میں جامع فلڈ مینجمنٹ حکمت عملی اب بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔










