سری نگر//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے جموںوکشمیر یوٹی میں 4؍ ستمبر سے 9؍ ستمبر کے درمیان پہلی بار منعقد ہونے والے ’’ بھرشٹا چار مُکت جموںوکشمیر ہفتہ‘‘ کے اِختتام پر اِس بات کواعادہ کیاکہ رشوت کے خلاف جنگ صرف ایک بار نہیں بلکہ مسلسل عمل ہے جسے ہماری سوچ اور عمل کا لازمی حصہ بننے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ صرف علامت پر یقینی نہیں رکھتی بلکہ رشوت کے خلاف اِس لڑائی کو ہر گھر تک پہنچانے کے لئے پُر عزم ہے۔اُنہوں نے مشاہدہ کیا کہ رشوت کا عمل صرف چند اَفراد کے لئے فائدہ مند ہے جو ناجائزدولت جمع کرتے ہیں لیکن عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے نقصان دہ ہیں۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ مجموعی طورپر معاشرہ کورپشن کو اِس کی تمام جہتوں اور شکلوں میں شکست دے کر ہی ترقی کرسکتا ہے ۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اِنتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے اِس کام کو اِجتماعی طورپر پورا کرنا ہوگا۔اے سی بی اور کرائم برانچ جیسے اِنسداد رشوت کے اِداروں کو اَپنا کردار اَدا کرنا ہوگا ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہی وجوہات ہیں کہ آئند ہ ویجی لنس ہفتہ کا تھیم ’’ ملک کی ترقی کے لئے رشوت سے پاک معاشرہ ‘‘ رکھا گیا ہے۔اُنہوں نے حال ہی میں ختم ہونے والے ’’ ڈیجیٹل ویک‘‘ کا ذِکر کرتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ عوام کی ڈیجیٹل بااِختیاریت نظام میں رشوت کو کم کرنے میں بہت زیادہ تعاون کر رہی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ اِی ۔ ٹینڈرنگ ، بی اِی اے ایم ایس ، جن بھاگیداری ، جیو ٹیگنگ ، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور فزیکل ویری فکشن جیسی آئی ٹی سے چلنے والی خصوصیات نے سرکاری خزانے کو بڑے پیمانے پر مفاد پرستوں کے ذریعے چوری ہونے سے بچایا ہے۔ ڈاکٹر ارون کمار مہتانے لوگوں کی حوصلہ اَفزائی کی کہ وہ جسمانی طور پر دفاتر کا دورہ کئے بغیر اَپنے گھروں سے آن لائن خدمات کے لئے درخواست دینا اَپنی عادت بنائیں۔اُنہوں نے اِنکشاف کیا کہ اِی۔ اُنّت پورٹل پر تقریباً 1,020سروسز اور ’ موبائل دوست ‘ ایپلی کیشن پر تقریبا 900 سروسز موجود ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہر کسی کے لئے صرف اَپنے موبائل فون ڈیوائسز کا اِستعمال کرتے ہوئے کسی بھی شہری پر مبنی سروس کے لئے درخواست دینا آسا ن ہے۔اُنہوں نے اعلان کیا کہ اِنتظامیہ جلد ہی ’ ڈیجی دوست‘ سکیم شروع کرنے جارہی ہے جس کے تحت ایک آئی ٹی پرسن درخواست گزاروں کے گھر اَپنے آلات کے ساتھ جائے گا اور معمولی فیس پر آن لائن مطلوبہ درخواستیں دینے میں ان کی مدد کرے گا۔چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر نے گزشتہ چند برسوں میں حقیقی معنوں میں ’ ڈیجیٹل تبدیلی ‘ کی ہے ۔ اُنہوں نے زور دے کر کہا کہ اِس سے دُور دراز علاقوں اور جموںوکشمیر یوٹی کے شہری مراکز کے درمیان فاصلہ کم ہوگیا ہے ۔اُنہوں نے وضاحت کی کہ یہ پہلی بار ہے کہ کسی بھی چیف سیکرٹری نے عملی طور پر زائد اَز 50 دور دراز پنچایتوں کا دورہ کیا ہے اور لوگوں کی شکایات کو براہِ راست سماعت کی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل جے اینڈ کے مستقبل کے لئے تیار جموںوکشمیر کی تیاری کا حصہ ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر ضروری پیش رفت کرنے اور دوسروں کے لئے رول ماڈل بننے کے لئے اَپنی راہ پر گامزن ہے۔ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے یہ بھی کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی کے لئے ایک ڈیٹا بیس ہونے جارہا ہے جو اِس کے شہریوں کے لئے خدمات کی کارکردگی اور دستیابی میں بہت زیادہ اِضافہ کرے گا۔ اُنہوں نے یاد دِلایا کہ آن لائن خدمات کی آٹو اپیل خصوصیت پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ ( پی ایس جی اے ) کے تحت مقررکردہ ٹائم لائنز کے مطابق سروس کی فراہمی میں اِنقلاب برپا کر رہی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 22,000 سے زائد معاملات کو ازخود بڑھایا گیا اور 800 ملازمین کو ایکٹ کے تحت مقرر کردہ ٹائم لائنز کی خلاف ورزی پر جُرمانہ کیا گیا۔اُنہوں نے کہا کہ جہاں شہریوں کی ہر شکایت کو اِس کے منطقی اَنجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے ، وہیں ان نیک نیت اَفسروں کی حفاظت کرنا بھی اُتنا ہی ضروری ہے جنہوں نے ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ نیک نیتی سے کام کیا۔اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی محرک اور بد دیانتی کی شکایت کی مکمل چھان بین کی ضرورت ہے اور شکایت کنند گان کو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔چیف سیکرٹری نے ہر ضلع کے اِنچارج سیکرٹریوں سے کہا کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے اَضلاع میں ’بھرشٹا چار ‘ کے بارے میں آزادانہ گفتگو ہو ۔اُنہوں نے ’ پرابھاری اَفسران ‘ کو ہدایت دی کہ وہ لوگوں اور پنچایت اَرکان کی موجودگی میں ماہانہ پنچایت کنورجن میٹنگ میں اِس کا تذکرہ کریں تاکہ رشوت کے خلاف لڑائی نچلی سطح تک پہنچ سکے۔ اُنہوں نے ان سے کہا کہ وہ اسے لوگوں کی ایک عوامی تحریک میں تبدیل کریں کیوں کہ یہ اِس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ بدعت ہماری سرزمین سے مکمل طور پر ختم ہوجائے گا۔اُنہوں نے کہا کہ لوگوں کو آن لائن خدمات ، اِی۔ ٹینڈرنگ ، جن بھاگیداری پورٹل اور دیگر آئی ٹی سے چلنے والے نظاموں کے فوائد کے بارے میں حساس بنانے کی ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے نوجوانوں کو تبدیلی کا ایجنٹ قرار دیا اور سب سے اپیل کی کہ وہ ان پر توجہ دیں تاکہ وہ رشوت کی برائیوں سے پاک زندگی گزاریں۔ ضلع ترقیاتی کمشنروں اور ایس ایس پیزنے اس ہفتے تک جاری رہنے والی مہم کا مجموعی جائزہ لیتے ہوئے میٹنگ کو بتایا کہ لوگوں نے پروگرام میں تمام دنوں میں آسانی سے شرکت کی۔ ان کی رپورٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ جموںوکشمیر یوٹی اضلاع میں تقریباً 46,000 تقریبات میں تقریباً 15 لاکھ لوگوں نے حصہ لیا ہے۔تفصیلات میں یہ بھی شامل ہے کہ جموں ضلع میں تقریباً 4.6 لاکھ لوگوں نے تقریباً 8,500 تقریبات میں حصہ لیا۔ اسی طرح کٹھوعہ میں 2,024 کے تقریبات میں 1.3 لاکھ لوگوں نے حصہ لیا۔ راجوری میں تقریباً 3,800 تقاریب میں 1,45000 سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی، کولگام میں 2,177 تقاریب میں 94,000 افراد، بارہمولہ میں 1,204 تقاریب میں 93,000 افراد، بانڈی پورہ میں 1,425 تقاریب میں 91,000 افراد، بڈگام میں 4,800 تقریبات میں 55,000، شوپیاں میں 1,700 تقریبات میں 45,500، پلوامہ میں 1,100 تقاریب میں 100000 سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی اورریاسی میں 2,100 تقاریب میں 47,000 افراد، ادھم پور میں 2,025 کے تقریبات میں 42,500 افراد نے مختلف سرکاری دفاتر، پنچایتوں، یو ایل بی کے مختلف ضلعوں، بلاکوں اور تحصیلوںمیں منعقد ہونے والی تقریبات میں حصہ لیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر وں نے ہر ضلع میں موصول ہونے والی شکایات کی نوعیت اور مقدار کے بارے میں بھی جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس ہفتے کے دوران عوام سے تقریباً 35,000 شکایات موصول ہوئیں۔ مزید بتایا گیا کہ زیادہ تر شکایات ریونیو، دیہی ترقی، سماجی بہبود، پی ڈی ڈی اور جل شکتی محکموں اور حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً شروع کی گئی کئی دیگر مستفیدین پر مبنی سکیموں کے بارے میں تھیں۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ تقریباً 90 فیصد شکایات کو ہفتے کے دوران ہی حل کیا گیا اور بقیہ کو حل کرنے کا عمل جاری ہے۔










