مطلوب لشکر کمانڈرعذیرخان ساتھی سمیت ہلاک،نعشیں برآمد:ای ڈی جی پی کشمیر
اننت ناگ//جنوبی کشمیرکے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکرناگ علاقے کے مضافاتی جنگل میں 13ستمبر سے جاری ملی ٹنٹ مخالف آپریشن میں سیکورٹی فورسزکو اُسوقت بڑی اہم کامیابی حاصل ہوئی ،جب ساتویں روز طوفانی شلنگ کی زدمیں رہنے والے گھنے سے جنگل سے ایک اورملی ٹنٹ کی نعشیں برآمد کی گئی ،جو مطلوب ترین مقامی لشکرکمانڈر عذیرخان کی بتائی جاتی ہے۔خیال رہے اس آپریشن کے پہلے روز ابتدائی جھڑپ میں فوج کے ایک کرنل اورایک میجر کے علاوہ جموں وکشمیرپولیس کاایک جواں سالہ ڈی ایس پی کی موت واقعہ ہوئی تھی جبکہ بعدازاں ایک زخمی فوجی جوان چل بسا اورایک لاپتہ فوجی کی نعش پیرکو اس جنگل سے برآمد کی گئی ۔اس دوران اے ڈی جی پی کشمیرزون وجے کمار اور چنار کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے تازہ زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گڈول آپریشن سائٹ کا دورہ کیا۔جے کے این ایس کے مطابق گڈول کوکرناگ میں جاری ملی ٹنٹ مخالف آپریشن کے ساتویں روز جموں وکشمیرپولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کشمیر وجے کمار نے جائے وقوعہ پر میڈیا نمائندوں کیساتھ ایک مختصر بات چیت میں انکشاف کیاکہ گڈول انکائونٹر کااصل سرغنہ اورمطلوب ترین لشکرکمانڈر عذیرخان کوہلاک کیاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ 13ستمبر کو گڈول کے مضافاتی جنگل میں دوسے تین دہشت گردوں کے موجودہونے کی اطلاع ملنے کے بعد یہاں آپریشن شروع کیاگیاتھا۔اے ڈی جی پی وجے کمار نے بتایاکہ جنگل سے پیر کوایک دہشت گردکی نعش برآمد کی گئی تھی ،اورآج یعنی منگل کوایک اور دہشت گردکی نعش کوبھی جنگل سے برآمد کیاگیاہے ۔سینئرپولیس افسر نے کہاکہ مارے گئے 2دہشت گردوں میں سے ایک کی نعش مطلوب لشکر کمانڈر عذیرخان کی ہے ،اوراسکی تصدیق ہوئی ہے کہ عذیرخان سیکورٹی فورسزکی جوابی کارروائی میں ساتھی سمیت ماراگیاہے ۔انہوںنے بتایا کہ دوسرے کی شناخت کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔اے ڈی جی پی کشمیر نے مزید بتایاکہ ممکنہ طور پر جنگل میں موجود تیسرے ملی ٹنٹ کی تلاش جاری ہے ۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کشمیرزون وجے کمار نے لشکر طیبہ کا کمانڈر عزیر خان مارا گیا ہے اور اس کا ہتھیار برآمد کر لیا گیا ہے۔جبکہ ایک اور دہشت گرد کی لاش دیکھی گئی ہے ،جس کوبرآمد کرنے کی کارروائی جاری ہے۔سینئرپولیس افسر نے مزید کہاکہ پوراعلاقہ سخت محاصرے میں ہے اور یہاں سرچ آپریشن جاری ہے۔اسے پہلے اے ڈی جی پی کشمیرزون وجے کمار اور چنار کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے تازہ زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گڈول آپریشن سائٹ کا دورہ کیا۔خیال رہے13ستمبر بروز بدھ وار کو اس آپریشن کے پہلے روز ابتدائی جھڑپ میں فوج کے ایک کرنل منپریت سنگھ اورایک میجر آشیش دھونچک کے علاوہ جموں وکشمیرپولیس کاایک جواں سالہ ڈی ایس پی ہمایوں بٹ کی موت واقعہ ہوئی تھی جبکہ بعدازاں ایک زخمی فوجی جوان چل بسا اورایک لاپتہ فوجی کی نعش پیرکو اس جنگل سے برآمد کی گئی ۔اس دوران ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کشمیرزون وجے کمار نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہم مقامی لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جنگل کی جانب جانے سے احتراض کریں ،کیونکہ وہاں بارود مواد یاکوئی شل وغیرہ پڑا ہوسکتاہے ۔انہوںنے کہاکہ جنگل میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ جنگل کومکمل طور پرصاف کیاجائے اور ممکنہ طور پرموجود تیسرے دہشت گرد کی تلاش جاری رکھی جائے ۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا آپریشن ختم کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ سرچ آپریشن کچھ شکل میں جاری رہے گا۔سینئرپولیس افسر نے کہاکہ میں مقامی لوگوں سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ تصادم کی جگہ کے قریب نہ جائیں کیونکہ نہ پھٹنے والے دستی بم یا گولے ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کی طرف سے کل ہلاکتوں کے بارے میں، اے ڈی جی پی نے کہاکہ انکاؤنٹر میں ایک سپاہی کے علاوہ 3 افسران،2 فوج کے اور ایک پولیس کا تھا۔اس سے قبل ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا تھا کہ سخت خطہ اور بڑے خطرے کی وجہ سے سیکورٹی فورسز گڈول میں دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لیے ایک مناسب منصوبہ پر عمل کر رہی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شمالی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اوپیندرا دیویدی نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور آپریشن کا جائزہ لیا۔ فوج اور پولیس نے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے ہیرون، ہیکسا کاپٹر، ڈرون، کواڈ کاپٹر، آر پی جی، گرینیڈ اور ڈرون سے لیس بندوقوں سمیت جدید ترین آلات پر زور دیا تھا۔ یہ آپریشن کشمیر میں سب سے بڑا آپریشن تھا کیونکہ دہشت گردوں کو ختم کرنے میں سیکورٹی فورسز کو سات دن لگے۔غور طلب ہے کہ 13ستمبر کو شروع کئے گئے اس آپریشن کی نگرانی کشمیر میں سیکورٹی گرڈ کے اعلیٰ حکام بشمول ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) اور آرمی کی 15 کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔










