محکمہ اری گیشن کا کہیں کوئی اتہ پتہ نہیں ،لوگ نالاں
ہندوارہ//ہندوارہ میں کئی آبپاشی نہریں، کنال خستہ حال محکمہ کا کئی اتہ پتہ نہیں محکمہ ارگیشن کی اس خواب غفلت پر عوام نالاں۔جے کے این ایس نامہ نگارطارق راتھرکے مطابق ہندوارہ کے بیشتر علاقوں کے لوگوں نے بتایا کہ علاقوں کے کئی ایسی آبپاشی نہرے ہیں جو مکمل طور بند بلاک ہوگئی ہے لیکن متعلقہ محکمہ ان ندیوں آبپاشی نہروں کو صاف کرانے میں ناکامی کا مظاہرہ کررہے ہیں کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ ارگیشن آج سے ہی ان ندی نالوں۔آبپاشی نہروں کی صاف صفائی عمل میں لاتا ان ندی نالوں کے ارگرد کی گئی تجاوزات کو ہٹایا جاتا توکل ان کسانوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا انہیں اپنی کھیتی سراب کرانے میں پریشانیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ان کا کہنا ہے کہ ان ندی نالوں۔آبپاشی نہروں کی حالت کافی خستہ ہوگئی ہے اورمتعلقہ محکمہ کے افسران وملازمین کہیں نظر نہیں آرہے ہیں جس کے نتیجے میں کسانوں کو کل کھیتی کو سراب کرانے کے لئے پانی سینچائی کرنے کیلئے پانی دستیاب نہیں ہوتا ہے جس سے ان کی کھیتی میں تباہ ہورہی ہے انہوں نے کہا اگرچہ زمینداری کا سیزن بھی شروع ہوگیا ہے لیکن متعلقہ محکمہ خواب غفلت میں ہے اور ہھر محکمہ کے ملازمین وافسران کھیتی کے سیزن میں آبپاشی نہروں،ندیوں کو صاف صفائی کے لئے نکلتے ہیں۔جس سے پھر ان آبپاشی نہروں کی تباہی نہیں ہوجاتی ہے جبکہ کسانوں کو بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں نے مارچ کے ماہ سے ہی ان آبپاشی نہروں کی صاف صفائی اور ان کے ارگرد کھڑے کئیگئے انکوریجمنٹ کو بھی آج سے ہی ہٹائی جائے تاکہ آنے االے دنوں میں کسانوں۔زمینداروں کو پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ادھر محکمہ ارگیشن کے زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محکمہ ارگیشن میں پچھلے دو برسوں سے ایگزیکٹو انجینئر نہیں ہے جس کے باعث دفتر کا سارا کام بکھرا پڑا ہے انہوں نے کہا دفتر میں ایگزیکٹو ایگزیکٹوانجینر نہ ہونے کی وجہ سے دفتر کا کام ٹھپ پڑا ہے۔ اگر چہ کئی بار متعلقہ محکمہ کے اعلی عہدیدران کو اس بارے میں آگاہ کیا لیکن دو برس گزرنے کے بعد بھی مذکورہ دفتر کیایگزیکٹو انجینئر کی کرسی خالی پڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ارگیشن میں ملازمین کی بھی عدم دستیابی ہے جس سے ارگیشن کا کام مکمل طور ٹھپ پڑا ہوا ہے انہوں نے کہا دفتر میں ملازمین کی کمی بھی ہے اور ان ندی نالوں آبپاشی نہروں کی صاف صفائی اور انکوریجمنٹ بھی ہٹانے کیلئے بھی کوئی حکم نامہ جاری نہیں ہوا۔ان کا مزید کہنا ہے اگر ایک طرف محکمہ اری گیشن ملازمین کی عدم دستیابی کا بہانہ کررہا تو دوسری جانب یہ معلوم ہورہا ہے انہوں نے اپنے ملازمین کو جیولوجی اینڈ مائنگ کے ساتھ منسلک رکھیں ہیں۔ادھرمرٹگام چوگل میں آبپاشی نہروں کے ارگرد تجاوزات ہٹانے کا کام شرورع کیا گیا تاہم لوگوں نے الزام لگایا کہ صرف غریبوں کے درختان کاٹے گئے ہے جبکہ اثر رسوخ افراد کے درختان کو نہیں کاٹا گیا اور ان غریبوں پر محکمہ نے اپنا روب جماکر ان کے درختان کاٹ دیے گئے اور کئی تجاوزات کو ہٹادیا گیا ہے۔لوگوں نے متعلقہ محکمہ کے افسران سے مطالبہ کیا کہ اس مارچ کے ماہ میں ہی آبپاشی ندنالوں کی صاف صفائی کرائی جائے اور ان ندیوں پر کھڑے کئے گئے تجاوزات کو ہٹایا جائے۔










