ہر ضلع میں 75 اَمرت سروور حاصل کرنے میں جموں وکشمیر یوٹی سب سے آگے ہے

جموں وکشمیر یوٹی کلائمیٹ چینج کے خلاف جنگ میں اہم ریاستوں اور یوٹیز میں شامل ہونے کی خواہش رکھتا ہے ۔چیف سیکرٹری

جموں//چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے آج اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستان 2070 تک خالص صفر کاربن کے اخراج کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے اوراُنہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم فوسل فیول سے ہٹ کر متبادل ذرائع کو اپنا اہم توانائی فراہم کرنے والے بنائیں۔ چیف سیکرٹری آج یہاں کنونشن سینٹر میں جموں و کشمیرپولیوشن کنٹرول کمیٹی زیر اِنعقاد ایک ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔اِستفساری ورکشاپ’’کلائمیٹ چینج مِٹیگیشن اینڈ گرین فنائنانسنگ فار اے کلائمیٹ ریزیلینٹ اینڈ کاربن نیوٹرل جے اینڈ کے‘‘ میںپی سی سی ایف ( ایچ او ایف ایف ) جے اینڈ کے محکمہ جنگلات اور چیئرمین جے اینڈ کے پولیوشن کنٹرول کمیٹی ڈاکٹر موہت گیرا ،وائس چانسلر اِسلامی یونیورسٹی کشمیر ڈاکٹر شکیل احمد رومشو، محکمہ جنگلاتی شعبوں کے سربراہان، مشہور آئی پی سی سی مصنف ڈاکٹر رویندر ناتھ اورایم او اِی ایف سی سی ، ٹی اِی آر آئی ، ارنسٹ اینڈ ینگ کلائمیٹ ، ورلڈ ریسورسز اِنسٹی چیوٹ آف اِنڈیا کے ریسورس پرسنز کے علاوہ دیگر نامور مہمانوں اور ماحولیات کے ماہرین شرکت کی۔ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے پولیوشن کنٹرول کمیٹی اور جموںوکشمیر کے محکمہ جنگلات کی 2070ء تک نیٹ صفر کاربن پر بات چیت کے اِنعقاد کی کوششوں کو سراہا ۔اُنہوںنے کہا کہ جموں وکشمیر نے پہلے ہی گائوں پلی کی آب و ہوا سے کاربن نیوٹرل پنچایت تیار کرنے کا ایک ماڈل بنایا ہے جو ملک میں اَپنی نوعیت کا پہلا ہے۔چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا کے مطابق حکومت جموں و کشمیر اہم ترقیاتی سکیموں کو اپنانے میں ہمیشہ سب سے آگے رہا ہے۔ہر ضلع میں 75 امرت سرووروں کو پورے ملک میں سب سے پہلے نافذ کرنے کا امتیاز اس بات کی ایک اچھی مثال ہے کہ جموں و کشمیر اپنے شہریوں کے تعاون سے وقت کی ضروریات کو کس حد تک بہتر بنا سکتا ہے۔ اسی طرح، ’’ہر گاوں ہریالی‘‘، ’’ایک بیٹ گارڈ، ایک گاؤں کا پروگرام‘‘، ’’ون سے جل، جل سے زندگی‘‘ جیسی سکیمیں گاؤں کی سطح کو بہتر کرنے اور موافقت پیدا کرنے میں بہت کارگر ثابت ہوئی ہیں۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ جموں و کشمیر حالیہ برسوں میں کھیلوں، زراعت اور سیاحتی شعبوں میں تبدیلی کے اقدامات کو اپنانے میں ایک رہنما رہا ہے۔ اُنہوںنے کہا کہ ہم ہربرس پہلے سے زیادہ درخت لگا رہے ہیں اور اس برس پورے جموں و کشمیر میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ درخت لگائے جائیں گے۔صحت کے بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے جموںوکشمیر کا شمار ہندوستان کی سرکردہ ریاستوں میں ہوتا ہے۔ ہر گھر نل سے جل سکیم کو بھی اس مالی برس کے آخیر تک مکمل طور پر عملایا جائے گا۔ اس سکیم کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر کم از کم آنے والے 50 برسوں کے لئے پانی کی فراہمی کے چیلنجوں کو کم کرنا ہے۔چیف سیکرٹری نے موسمیاتی تبدیلی کے موافقت کے اقدامات کو عوام تک اس طرح پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا جس سے ان کے ساتھ حقیقی تعلق قائم ہو۔ اُنہوں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پنچایتوں سمیت تمام سطحوں پر عوام کے ساتھ ایسے طریقوں سے رابطہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس سے عوامی ملکیت پیدا ہو۔چیف سیکرٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ جو چیز ماحول کے لئے اچھی ہے وہ معیشت اور سماج کے لئے ہمیشہ اچھی ہوتی ہے اور اُنہوں نے کہا کہ ریاستوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو ہمارے موسمیاتی تبدیلی کے تدارک کے اقدامات میں رُکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔اس کے علاوہ چیف سیکرٹری نے ماحولیات کے ماہرین پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے لئے یوٹی انتظامیہ کی جانب سے بروقت مداخلت کے لئے ماحولیاتی منصوبوں پر کام کریں۔اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ جموں و کشمیر آنے والے برسوں میں بھی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف آگے بڑھتا رہے گا۔پی سی سی ایف ( ایچ او ایف ایف ) اور چیئرمیں جے اینڈ کے پولیوشن کنٹرول کمیٹی ڈاکٹر موہت گیرا نے ورکشاپ کے مقصد، ممکنہ حکمت عملیوں اور جموں و کشمیر کے خطرے کے پیش نظر یونین ٹیریٹری میںبہتری پیدا کرنے کے لئے ایکشن پلان پر تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے آب و ہوا کے خاتمے میں جنگلاتی شعبے کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ کس طرح جنگلات موسمیاتی تبدیلی اور موافقت کے تناظر میں زراعت، باغبانی اور سیاحت کی مدد کر رہے ہیں۔پروفیسر این ایچ رویندر ناتھ اِنڈین اِنسٹی چیوٹ آف سائنس بنگلور نے ’’ بھارت کی پالیسیاں اور وعدے ‘‘کے موضوع پر تعارفی کلمات پیش کئے اور وائس چانسلر اِسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ کشمیر ڈاکٹر شکیل احمد رومشو نے جموں وکشمیر میں موسمیاتی تبدیلی کے ممکنہ اثرات کو اُجاگر کیا۔ڈائریکٹر(ریٹائرڈ)مرکزی کلائمیٹ تبدیلی ڈویژن ایم او اِی ایف اینڈ سی سی ڈاکٹر ایس ستپا تھی نے ’’ جموںوکشمیر کے لئے قومی اور ذیلی قومی سطح پر موسمیاتی اقدامات ‘‘ پر ایک تفصیلی پرزنٹیشن دی جبکہ ایسو سی ایٹ پارٹنر ارنسٹ اینڈ ینگ اِنڈیا ایل ایل پی امیت کمار نے ’’ تخفیف اور موافقت کے لئے گرین فائنانسنگ ‘‘ کے موضوع پر پرزنٹیشن پیش کی۔این جی او اوتھانال کیرالہ جے کمار چیلٹن نے اَپنے تجربے کو ایک کامابی کی داستان کے طور پر ’’ دیہات کی نیٹ زیرو میں منتقلی ۔مینن گڈی کیرالہ کا تجربہ‘‘ کے عنوان پر اَپنے خیالات کا اِظہار کیا۔دورانِ ورکشاپ چیف سیکرٹری نے جموں اور سری نگر کے سمارٹ شہروں کے لئے مقامی حیاتیاتی تنوع کی حکمت عملی اور ایکشن پلان پر چار اِشاعتیں بھی جاری کیں۔